Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
18 - 274
 مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بتایا وہ سب حق ہے۔
علم کیسا اورکتناضروری ہے؟
	اےبندے!تجھ پرایساعلم حاصل کرناواجب ہےجس کی بدولت اخلاص،کامل نیت، درست عمل نیز توکُّل وتفویض(یعنی اپنی ذات اور معاملات کو سپرد خدا کرنا)،رضا،صبر،توبہ اور اخلاص  وغیرہ دل سےصادرہونےوالی باطنی عبادات  تجھےحاصل ہوں،ان سب کا تفصیلی بیان اِسی کتاب میں عنقریب آئےگا،اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ۔پھرتجھ پرشریعت کااتناعلم سیکھنا بھی واجب ہےجس سےعبادت درست ہوسکےجیسےطہارت،نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اورجہاد وغیرہ۔جب ان میں سےکوئی عبادت تجھ پرواجب ہوگی تواس کےاَحکام سیکھنابھی واجب ہوجائیں  گے۔البتہ  عِلمِ توحید کی تفصیل،اس پردلائل قائم کرنااورشبہات زائل کرناوغیرہ فرض کفایہ ہے۔یوں ہی فقہی مسائل کی باریکیوں اورفقہ کےتمام ابواب کی معرفت اوراس میں کامل مہارت حاصل کرنابھی فرض کفایہ ہے۔اسی طرح علومِ شرعیہ تک پہنچانے والے علوم جیسےصرف،نحو،عِلمِ معانی اورعِلمِ بیان وغیرہ کی معرفت بھی فرض کفایہ ہےاورتمہارے لئےایک نرم مزاج رہنمائی کرنےوالااستادہونابھی ضروری ہےاوراللہ  عَزَّ وَجَلَّاپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے احسان فرماتا ہے اور حقیقت میں علم دینے والا وہی ہے۔ 
علم  کی گھاٹی کے خطرات
علم کا نفع اور نقصان:
	مطلوب تک پہنچانےوالی علم کی گھاٹی کاجہاں نفع بہت زیادہ ہےوہیں اس کے خطرات بھی بڑے ہیں اور اسے عبور کرنا بھی انتہائی دشوار ہے۔ کتنے ہی ایسے ہیں جنہوں نے اس سےمنہ موڑاتوگمراہ ہو گئے،کتنےہی اس راہ پرچلتےہوئےپھسل گئے،اس گھاٹی میں سرگرداں