مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کےمتعلق آتا ہے کہ آپ نے حالتِ نزع میں آسمان کی جانب دیکھا تو مسکرا دیئے اوریہ آیتِ مبارکہ پڑھی:
لِمِثْلِ ہٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوۡنَ ﴿۶۱﴾(پ۲۳،الصّٰٓفّٰت:۶۱)
ترجمۂ کنز الایمان:ایسی ہی بات کے لیے کامیوں کو کام کرنا چاہیے۔
اسی طرح کا ایک واقعہ حضرت سیِّدُناامام ابو بکر بن فورک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ زمانہ طالِبِ علمی میں میرا ایک ساتھی تھا جو ابھی ابتدائی طالب علم تھا، بہت محنتی، متقی اور عبادت گزار تھا مگر باوجود محنت کے آگے نہیں بڑھ پاتا تھاتو ہمیں اس پر تعجب ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ وہ بیمار ہواتوخانقاہ میں صوفیا کے درمیان اپنی جگہ میں رہنے لگااور شفاخانے میں نہیں گیا اور بیماری میں بھی سخت عبادت وریاضت میں مشغول رہاجس کے سبب اس کی حالت مزیدخراب ہو گئی، میں اس کے پاس تھا کہ اچانک اس نے آسمان پر اپنی نظریں جمالیں اورکہا:”اےابْنِ فُورک!ایسی ہی بات کےلئےعمل کرنےوالوں کوعمل کرنا چاہیے۔“ اتنا کہہ کر اس کا انتقال ہو گیا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اُن پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمین
معاملہ اور سخت ہوگیا:
دوسر اواقعہ یہ ہے کہ حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتے ہیں: میرا ایک پڑوسی تھا میں اس کی موت کے وقت اس کے پاس گیا تو وہ مجھے دیکھ کر کہنے لگا: اے مالک! اس وقت مجھے اپنے سامنے آگ کے دو پہاڑ نظرآرہے ہیں اور کہا جا رہا ہے ان پر چڑھو۔آپ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کے گھر والوں سے اس کا حال اورعمل پوچھا تو انہوں نے کہا: اس شخص نے ماپنے کے دو پیمانے رکھے ہوئے ہیں، ایک سے غَلَّہ خریدتا ہے