حضرت سیِّدُناامام شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِینے کہا: تمام تعریفیں اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے ہیں جس نے ہمارے ساتھی کو نجات بخشی۔
بُرا خاتمہ:
دوسرے شخص کی حکایت کچھ یوں ہے کہ حضرت سیِّدُنافُضَیْل بن عِیاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابکے ایک شاگرد کی وفات کا وقت آیا تو آپ اس کے پاس گئے اور سر کے پاس بیٹھ کر سورہ یٰس شریف کی تلاوت کرنے لگے، شاگردنے کہا:استاد صاحب!یہ نہ پڑھیں۔ پھر آپ نے اسے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُکہنےکی تلقین کی تو(مَعَاذَ اللہ) اس نے کہا: میں یہ بھی نہیں کہوں گا،میں اس سے بیزار ہوں۔یہ کہہ کر وہ مر گیا تو حضرت سیِّدُنافُضَیْل بن عِیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہواپس اپنے مکان پرآئے اور 40 دن تک روتے رہے اور گھر سے باہرنہ نکلے پھر آپ نے خواب دیکھا کہ اس شاگرد کو گھسیٹ کر جہنم کی طرف لے جایا جا رہا ہے، آپ نے اس سے پوچھا: کس سبب سے اللہ عَزَّ وَجَلَّنے تجھ سے معرفت چھین لی حالانکہ تو میرے شاگردوں میں سب سے زیادہ علم والا تھا؟ اس نے کہا:تین عیبوں کے سبب، ان میں سے پہلا چغلی ہے کہ میں اپنی ساتھیوں کو کچھ بتاتا تھا اور آپ کو کچھ بتاتا تھا، دوسرا حسد ہے کہ میں ان سے حسد کرتا تھا اور تیسرا یہ ہے کہ مجھے ایک بیماری تھی، جب میں نے طبیب سے اس کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا: سال میں ایک پیالہ شراب کا پی لیا کر ورنہ یہ بیماری ختم نہیں ہو گی۔اس لئے میں سال میں ایک بار شراب پیا کرتا تھا۔
ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ناراضی سے اس کی پناہ مانگتے ہیں بے شک ہم اس کی ناراضی کو برداشت نہیں کرسکتے۔
حالَتِ نزع میں مسکرادئیے:
اب مزید دو قسم کے لوگوں کا حال بیان کرتا ہوں۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن