تیسرا اصول
پانچ احوال کابیان:
نفس کو خوف ورجا کے راستے پر چلانے کے لئے تیسرا اصول یہ ہے کہ ”روزِ قیامت بندوں کے لئےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ثواب یا عذاب کویاد کیا جائے۔“لہٰذا ہم یہاں پانچ احوال موت، قبر، قیامت، جنت اور دوزخ کا تذکرہ کریں گے اور ان میں سے ہر ایک میں فرمانبرداروں، نافرمانوں، سستی کرنے والوں اور کوشش کرنے والوں کے لئے جو خطرات ہیں انہیں بھی ذکر کریں گے۔
موت کا حال
خاتمہ بالخیر:
موت کے بارے میں دو شخصوں کاحال بیان کرتا ہوں۔اُن میں سے ایک کا حال یہ تھا کہ حضرت سیِّدُناابن شبرمہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:میں حضرت سیِّدُناامام شعبی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے ساتھ ایک مریض کی عیادت کےلئے گیا، ہم نے دیکھا کہ وہ حالتِ نزع میں ہے اور پاس بیٹھا ایک شخص اسے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کی تلقین کر رہا ہے۔سیِّدُنا امام شعبیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس شخص سےکہا: مریض کے ساتھ نرمی کرو۔ اتنے میں مریض بول اُٹھا اور کہنے لگا: یہ مجھےتلقین کرے یا نہ کرے میں کلمہ ضرورپڑھوں گا، پھر اس نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت کی:
وَ اَلْزَمَہُمْ کَلِمَۃَ التَّقْوٰی وَ کَانُوۡۤا اَحَقَّ بِہَا وَ اَہۡلَہَا ؕ(پ۲۶،الفتح:۲۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اورپرہیزگاری کاکلمہ اُن پر لازم فرمایا اور وہ اس کے زیادہ سزاوار اور اس کے اہل تھے۔