آیا ہوا عذاب ٹل گیا:
یونہی دیکھو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے نبی حضرت سیِّدُنا یونُسعَلَیْہِ السَّلَام کو ان کی قوم کےمعاملےمیں(جبکہ آپ حکْمِ الٰہی کاانتظارکئےبغیرہجرت کرگئےحالانکہ بعدمیں قوم نےتوبہ کرلی تھی) کیساعتاب فرمایاکہ’’تمہیں کدو کا پیڑ خشک ہونے کا غم ہے جسے میں نے ایک ساعت میں اُگایااورایک ساعت میں
خشک کردیامگرایک لاکھ یااس سےزیادہ لوگوں کاغم نہیں فرماتے ۔‘‘پھر دیکھو کہ کس طرحاللہ عَزَّ وَجَلَّنےان کی قوم کاعذرقبول فرمالیااوران سےاپنابڑا عذاب پھیردیا حالانکہ عذاب کا بادل انہیں گھیر چکا تھا ۔
بے پایاں رحمتیں:
پھرذرااِس معاملےپرغورکروجس میںاللہ عَزَّ وَجَلَّنےحضورسَیِّدُالْمُرْسِلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوعتاب فرمایا،واقعہ یہ ہےکہ ایک دفعہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم باب بَنِی شَیْبَہ سےاندرتشریف لائےتوکچھ لوگوں کوہنستےدیکھا،ارشاد فرمایا:
’’تم کیوں ہنس رہے ہو، میں تمہیں ہنستے ہوئے نہ دیکھوں ۔‘‘ یہ فرما کر ابھی حجر اَسْوَد تک پہنچے تھے کہ فوراً اُن کی طرف واپس آئے اورارشادفرمایا: ابھی میرے پاس حضرت جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامآئےاورعرض کی:یارسولَاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اللہ عَزَّ وَجَلَّآپ سے فرماتا ہے:آپ میرے بندوں کو میری رحمت سے مایوس کیونکرکریں گے؟ آپ اُن سے فرمادیجئے کہ بے شک میں بخشنے والا مہربان ہوں۔‘‘(1)
حضورنَبیِّ رحمت،شفیع اُ مَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”اَللہُ اَرْحَمُ بِعَبْدِہِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…معجم کبیر،۱۳ ،۱۴/۷۳،حدیث:۲۴۸،بتغیر۔معجم اوسط،۲/۷۸،حدیث:۲۵۸۳،بتغیر