میں جانبِ امید کے لحاظ سے اس کی وسیع رحمت کا تذکرہ کرو،اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس کی بے پایاں رحمت کا اندازہ اس بات سے لگاؤ کے وہ لمحہ بھر کے ایمان کے بدلے70 سال کے کفر کوختم فرمادیتا ہے۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
قُلۡ لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ یَّنۡتَہُوۡا یُغۡفَرْلَہُمۡ مَّا قَدْ سَلَفَ ۚ(پ۹،الانفال:۳۸)
ترجمۂ کنز الایمان:تم کافروں سے فرماؤ اگر وہ باز رہےتوجوہوگزراوہ انہیں معاف فرمادیاجائےگا۔
ایمان لانے والے فرعونیوں پر عنایتیں:
تم فرعون کے جادوگروں کے معاملے میں غور نہیں کرتے کہ وہاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے جنگ کرنے آئے تھے اور انہوں نے اُس کے دشمن فرعون کی عزت کی قسم کھائی تھی مگر جب انہوں نے کہا کہ ہم سچے دل سے ایمان لائے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کا ایمان قبول کر کے جو کچھ ہو چکا تھا معاف فرما دیاپھر انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنت میں شہیدوں کا سردار بنا دیا۔ یہ حال تو ان کا تھا جنہوں نے ساری زندگی فسادوگمراہی اور جادوگری وکفر میں بسر کی مگر ایک لمحہ کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّکو پہچان کر اسے ایک مان لیا تو اس کی کیا شان ہو گی جس نے اپنی ساری زندگی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو ایک مانتے ہوئےفنا کر دی اور دونوں جہاں میں کسی اور کو اس شان کے لائق نہ سمجھا۔
اصحابِ کہف پرفضل وعنایت:
پھر اصحابِ کہف کا واقعہ دیکھو کہ ایک لمبے عرصے تک وہ کفر کی تاریکی میں رہے مگر جب انہوں نے کہا کہ’’ہمارا رب وہ ہے جو زمین اور آسمانوں کا رب ہے۔‘‘اور بارگاہِ الٰہی کی طرف متوجہ ہوئے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کا ایمان قبول فرماکر انہیں عزت وتوقیر بخشی۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: