Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
172 - 274
	پھرصحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکودیکھوکہ جواس اُمَّت کےسب سےبہترزمانےکے لوگ ہیں، ایک مرتبہ دورانِ مزاح کوئی بات صادر ہوگئی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:
اَلَمْ یَاۡنِ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخْشَعَ قُلُوۡبُہُمْ لِذِکْرِ اللہِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ ۙ وَلَا یَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ مِنۡ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیۡہِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوۡبُہُمْ ؕ وَکَثِیۡرٌ مِّنْہُمْ فٰسِقُوۡنَ ﴿۱۶﴾(پ۲۷،الحدید:۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان:ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ اُن کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد اور اس حق کے لیے جو اترا اور ان جیسے نہ ہوں جن کو پہلے کتاب دی گئی پھر ان پر مدت دراز ہوئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں بہت فاسق ہیں۔
	پھراس پربھی غورکروکہ اُمتِ مرحومہ ہونےکےباوجوداِس اُمَّت کےلئےاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حدود وسزائیں،  بڑی تدبیریں اور آداب مقرر فرمائے ہیں۔
	حضرت سیِّدُنایونُس بن عُبَیْدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرمایاکرتے:یہاں کسی کے پانچ درہم(1) چوری کرنے  پراپنا بہترین عضو(ہاتھ) کٹ جانے کے بعد آخرت میں اس کے عذاب سے بے فکرمت ہونا۔
	ہم رحیم وکریم ربّ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ محض اپنے کرم کا معاملہ فرمائے بے شک وہ سب سے بڑھ کر مہربان ہے۔(اٰمین)
وسیع رحمت کا تذکرہ:
	دوسرا اصول پکڑ فرمانے اور معاف کرنے میں دستورِ الٰہی کے متعلق ہے۔اب اس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…چوری یہ ہے کہ دوسرے کا مال چھپا کرنا حق لے لیاجائے اور اس کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے مگر ہاتھ کاٹنے کے لئے چند شرطیں ہیں۔ دس درم چورائے یا اس قیمت کا سونا یا اور کوئی چیز چورائے اس سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
(بہار شریعت، حصہ ۹، ۲/۴۱۳ملتقطاً)