فَالْتَقَمَہُ الْحُوۡتُ وَ ہُوَ مُلِیۡمٌ ﴿۱۴۲﴾ فَلَوْلَاۤ اَنَّہٗ کَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیۡنَ﴿۱۴۳﴾ۙ لَلَبِثَ فِیۡ بَطْنِہٖۤ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوۡنَ﴿۱۴۴﴾ۚؒ(پ۲۳،الصّٰٓفّٰت:۱۴۲تا۱۴۴)
ترجمۂ کنز الایمان:پھراسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنےآپ کوملامت کرتاتھاتواگروہ تسبیح کرنے والانہ ہوتاضروراس کےپیٹ میں رہتاجس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے۔
پھراللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے احسان اور نعمت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
لَوْ لَاۤ اَنۡ تَدٰرَکَہٗ نِعْمَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ لَـنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ ہُوَ مَذْمُوۡمٌ﴿۴۹﴾(پ۲۹،القلم:۴۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اگراس کےرب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا الزام دیا ہوا۔
شکرگزار بندہ نہ بنوں ؟
اےکمزروبندے!اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اس خفیہ تدبیرپرغوروفکرکراوریونہی ذراآگے دیکھو کہ تمام رسولوں کے سرداراور ساری مخلوق بلکہ تمام انبیائےکرام عَلَیْہِمُ السَّلَام سےزیادہ پیارے اپنے محبوبِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے کیا ارشاد فرمایاہے:
فَاسْتَقِمْ کَمَاۤ اُمِرْتَ وَمَنۡ تَابَ مَعَکَ وَلَا تَطْغَوْا ؕ اِنَّہٗ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ﴿۱۱۲﴾(پ۱۲،ھود:۱۱۲)
ترجمۂ کنزالایمان:توقائم رہوجیساتمہیں حکم ہے اور جو تمہارے ساتھ رجوع لایا ہے اور اے لوگو سرکشی نہ کروبےشک وہ تمہارےکام دیکھ رہا ہے۔
حتّٰی کہ آپصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمارشادفرمایاکرتےتھے:”شَيَّبَتْنِيْ هُوْدٌ وَّاَخَوَاتُهَا یعنی مجھے سورۂ ہوداور اس جیسی دیگرسورتوں نے بوڑھا کر دیا ہے۔“(1)ایک قول کے مطابق اِ س فرمانِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…ترمذی،کتاب التفسیر،باب ومن سورة الواقعة،۵/۱۹۳،حدیث:۳۳۰۸
مصنف عبد الرزاق،کتاب فضائل القرآن،باب تعلیم القرآن وفضلہ،۳/ ۲۲۵،حدیث:۶۰۱۶