Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
169 - 274
پُرخطر،عمر مختصر اور عمل میں کمی وکَسَرہےجبکہ جانچنے والا بصیر ہے۔پس اگر وہ اچھے اعمال پر ہمارا خاتمہ فرمائے اور ہماری لغزشوں کو معاف فرما دے تو اس کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے۔
آنسوؤں سے گھاس اگ گئی:
	پھرزمین میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکے خلیفہ حضرت سیِّدُناداؤد عَلَیْہِ السَّلَام کے واقعہ پر غور کرو کہ انہوں نے صرف یہ ارادہ کیا تھا کہ ”اگر میرا وزیردورانِ جنگ شہید ہوگیا تو میں اس کی بیوی سے نکاح کر لوں گا۔“پھر وہ اس پر اتنا روئے کہ ان کے آنسوؤں سے زمین میں گھاس اُگ گئی اور آپ نے عرض کی:اِلٰهِىْ اَمَا تَرْحَمُ بُكَائِىْ وَتَضَرُّعِىْ؟الٰہی! کیا تو میرے رونے اور گریہ وزاری پر رحم نہیں فرمائے گا؟تو جواب ملا: یَادَاوٗدُ اَنَسِیْتَ ذَنْبَکَ وَذَکَرْتَ بُکَاءَکَیعنی اے داؤد!کیا آپ اپنی لغزش بھول گئےاور اپنی گریہ وزاری  کو یاد رکھتے ہیں؟
مچھلی کے پیٹ میں 40 دن:
	حضرت سیِّدُنایونسعَلَیْہِ السَّلَامکےواقعہ میں غورکروکہ آپ نےصرف ایک مرتبہ غصہ کیا (اورکفر اوراہْلِ کفرسےبغض کےسبب حکْمِ الٰہی کاانتظارکئےبغیرہجرت کرگئے)تواللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کو40 دن تک سمندر کی گہرائی میں مچھلی کے پیٹ میں رکھا جہاں آپ یہ ندا کرتے تھے:
لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبْحٰنَکَ ٭ۖ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ﴿ۚۖ۸۷﴾(پ۱۷،الانبیآء:۸۷)
ترجمۂ کنزالایمان:کوئی معبودنہیں سواتیرے پاکی ہے تجھ کو بے شک مجھ سے بے جا ہوا۔
	فرشتوں نےیہ ندا سنی توعرض کی:اےہمارےمعبوداورہمارے مالک!کسی نامعلوم جگہ سےجانی پہچانی آوازآرہی ہے۔ ربّ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: یہ میرا بندہ یونس ہے۔ فرشتوں نے اِس معاملےمیں سفارش کی۔اس سب کےباوجوداللہ عَزَّ وَجَلَّنے مچھلی کی طرف نسبت کرتے ہوئے آپ کا نام بدل کر ذُوالنُّون  کردیا پھرارشاد فرمایا: