Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
168 - 274
 اٰیٰتِنَا فَانۡسَلَخَ مِنْہَا فَاَتْبَعَہُ الشَّیۡطٰنُ فَکَانَ مِنَ الْغٰوِیۡنَ﴿۱۷۵﴾(پ۹،الاعراف:۱۷۵)
احوال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیتیں دیں تو وہ ان سے صاف نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگا تو گمراہوں میں ہو گیا۔
	یہاں یہ نہیں فرمایاکہ”ہم نے اُسے ایک آیت دی۔“بلکہ فرمایا:”اپنی آیتیں دیں۔“اور وہ بد بخت صرف ایک مرتبہ دنیا اور اہْلِ دنیا کی طرف جھکا اورایک باراللہ عَزَّ وَجَلَّکے دوستوں میں سےایک دوست یعنی حضرت سیِّدُناموسٰیکَلِیْمُاللہعَلَیْہِ السَّلَامکی عزت وحرمت کو ترک کیا یوں کہ بنی اسرائیل کی ترغیب پر حضرت سیِّدُناموسٰی عَلَیْہِ السَّلَامکی ہلاکت کی دعاکاارادہ کیا تواللہ عَزَّ وَجَلَّنےاسےدھتکارےہوئےکتےکی طرح کردیا۔چنانچہ قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا:
فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ الْکَلْبِ ۚ اِنۡ تَحْمِلْ عَلَیۡہِ یَلْہَثْ اَوْ تَتْرُکْہُ یَلْہَثۡ(پ۹،الاعراف:۱۷۶)
ترجمۂ کنزالایمان:تواس کاحال کتےکی طرح ہے تو اس پر حملہ کرے تو زبان نکالے اور چھوڑ دے تو زبان نکالے۔
	پس اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے گمراہی وہلاکت کے سمندر میں غرق کر دیا۔بعض علما نے فرمایا کہ گمراہ ہونے سے پہلے بلعم بن باعورا کی مجلس میں اس کی گفتگو لکھنے والے طلبا کے لئے بارہ ہزار سیاہی کی دواتیں رکھی جاتی تھیں مگر پھر وہ ویسا ہوگیا جیسا ہونا تھا۔ہماللہ  عَزَّ وَجَلَّکےغضب،اس کی ناراضی،اس کےدرناک عذاب اورایسی ذلت وخواری سے پناہ مانگتے ہیں جسے ہم برداشت نہیں سکتے۔
	غورکروکہ دنیاکی محبت اوراس کی نحوست بالخصوص عُلَماکوکس طرح نقصان پہنچاتی ہے، لہٰذاہوشیارہوجاؤکیونکہاَلْاَمْرُخَطِیْرٌوَّالْعُمْرُقَصِیْرٌوَّفِی الْعَمَلِ تَقْصِیْرٌوَّالنَّاقِدُ بَصِیْرٌ یعنی معاملہ