Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
167 - 274
خوفِ خدا کی شدت:
	پھر حضرت سیِّدُناابراہیمعَلَیْہِ السَّلَام کو دیکھو کہ انہوں نے صرف ایک بار کہا تھا:
اِنِّیۡ سَقِیۡمٌ ﴿۸۹﴾(پ۲۳،الصّٰٓفّٰت:۸۹)		ترجمۂ کنز الایمان:میں بیمار ہونے والا ہوں۔
	پھر اس پرکس قدر خوف اور گریہ وزاری کااظہار کیا اورفرمایا:
وَالَّذِیۡۤ اَطْمَعُ اَنۡ یَّغْفِرَ لِیۡ خَطِیۡٓـئَتِیۡ یَوْمَ الدِّیۡنِ ﴿ؕ۸۲﴾(پ۱۹،الشعرآء:۸۲)
ترجمۂ کنزالایمان:اوروہ جس کی مجھےآس لگی ہے کہ میری خطائیں قیامت کے دن بخشے گا۔
	یہاں تک مروی ہے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَامخوفِ خدا کی شِدّت سےاتنا روئے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےحضرت سیِّدُناجبریلعَلَیْہِ السَّلَامکوان کی طرف بھیجا،انہوں نےحاضرہوکر عرض کی:اےابراہیم!کیاآپ نےکبھی دیکھاکہ دوست اپنےدوست کوآگ کاعذاب دے؟ حضرت سیِّدُناابراہیم عَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: اے جبریل! جب مجھے اپنی لغزش یادآتی ہے تو مجھے اُس کی دوستی بھول جاتی ہے۔
	پھر حضرت سیِّدُناموسٰی کَلِیْمُاللہعَلَیْہِ السَّلَامکو دیکھو کہ انہوں نے غصہ سے ایک قبطی کوگھونسا مار دیا تو کس قدر خوف کا اظہار اور استغفار کیا اور بارگاہِ الٰہی میں عرض کی:
رَبِّ اِنِّیۡ ظَلَمْتُ نَفْسِیۡ فَاغْفِرْ لِیۡ(پ۲۰،القصص:۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اے میرے رب میں نے اپنی جان پر زیادتی کی تو مجھے بخش دے۔
دھتکارا ہوا کتابنا دیا:
	پھر انہی کے زمانے میں بلعم بن باعورابھی تھا جس کا مرتبہ یہ تھا کہ نظر اُٹھاتا تو عرش کو دیکھ لیتا تھا ،اِس آیتِ طیبہ میں وہ ہی مراد ہے:
 وَاتْلُ عَلَیۡہِمْ نَبَاَ الَّذِیۡۤ اٰتَیۡنٰہُ 		ترجمۂ کنز الایمان:اور اے محبوب انھیں اس کا