بیان کرنے کے بجائے ربّ تعالیٰ نے اپنے صفاتی نام’’رحمٰن (یعنی بہت رحم فرمانے والا)‘‘کے ساتھ بیان فرمایا تاکہ خوف کے ساتھ رحمت کا بھی ذکر ہو اور صرف خوف تمہارے دل کو فنا نہ کر دے،تو یہ امن دیتے ہوئے ڈرانا ہے اور سکون دیتے ہوئے ہلانا ہے جیسے تمہارا کسی سے کہنا:’’کیا تم اپنی مہربان ماں سے نہیں ڈرتے؟‘‘،’’کیا تمہیں اپنے شفیق باپ سے خوف نہیں؟‘‘،’’کیا تم رحم دل حاکم سے نہیں ڈرتے؟‘‘اس سے مرادیہ ہے کہ تم خوف وامن کا درمیانی راستہ اختیار کرواور بالکل بے خوفی اور مایوسی کی طرف نہ جاؤ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں اور تمہیں اس حکمت بھرے کلام میں غور وفکر کرنے اور اس پرعمل کرنے والا بنائے بے شک وہ جواد وکریم ہے اورنیکی کی قوت اور گناہ سے بچنے کی طاقت بلند وبرتراللہ عَزَّ وَجَلَّہی کی طرف سے ہے۔
دوسرا اصول
80ہزار سال کی عبادت ضائع:
دوسرااصول پکڑفرمانےاورمعاف کرنےمیں دستورِالٰہی کےمتعلق ہے۔جانبِ خوف میں سب سے پہلے یہ غور کرو کہ شیطان نے80ہزار برس اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کی اور زمین پرکوئی ایسی جگہ نہ چھوڑی جہاںاللہ عَزَّ وَجَلَّکو کوئی سجدہ نہ کیا ہو پھر اس نے ایک حکم کی نافرمانی کی تواللہ عَزَّ وَجَلَّنےاُسےاپنی بارگاہ سےدُھتکاردیااوراس کی80ہزارسال کی عبادت اس کے منہ پردے ماری، قیامت تک کے لئے اُس پرلعنت فرما دی اور اس کےلئے ہمیشہ ہمیشہ والا دردناک عذاب تیار کر رکھاہے۔
مروی ہےکہ حضورنبی رحمت،شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےحضرت سیِّدُنا جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامکوکعبہ شریف کےپردوں سےلپٹ کردھاڑیں مارتےاوریہ دعا کرتے