الرَّحِیۡمُ ﴿ۙ۴۹﴾(پ۱۴،الحجر:۴۹) میں ہی ہوں بخشنے والا مہربان۔
اس سے اگلی آیت میں فرمایا:
وَ اَنَّ عَذَابِیۡ ہُوَ الْعَذَابُ الۡاَلِیۡمُ ﴿۵۰﴾(پ۱۴،الحجر:۵۰)
ترجمۂ کنزالایمان: اور میرا ہی عذاب درد ناک عذاب ہے۔
امیدکےفوراًبعدعذاب کاذکراس لئےفرمایاتاکہ تم پر صرف امیدہی غالب نہ آجائے۔
ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:
شَدِیۡدِ الْعِقَابِ (پ۲۴،المؤمن:۳) ترجمۂ کنز الایمان:سخت عذاب کرنے والا۔
اس کے ساتھ ہی ارشاد فرمایا:
ذِی الطَّوْلِ ؕ(پ۲۴،المؤمن:۳) ترجمۂ کنز الایمان:بڑے انعام والا۔
یعنی احسان اور فضل والا، یہ اس لئے فرمایا کہ کہیں تم مکمل طور پر خوف میں ہی نہ جکڑے جاؤ۔
نیز اللہ عَزَّ وَجَلَّ کایہ فرمانِ مبارک کتناحیرت انگیز ہے :
وَیُحَذِّرُکُمُ اللہُ نَفْسَہٗ (پ۳،اٰل عمرٰن:۳۰)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اللہ تمہیں اپنے عذاب سے ڈراتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی ارشاد فرمایا:
وَاللہُ رَءُوۡفٌۢ بِالْعِبَادِ﴿۳۰﴾٪(پ۳،اٰل عمرٰن:۳۰) ترجمۂ کنز الایمان:اور بندوں پر مہربان ہے۔
اس سےبھی بڑھ کر حیرت انگیز یہ فرمانِ مبارک ہے:
وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیۡبِ (پ۲۲،یٰسٓ:۱۱) ترجمۂ کنزالایمان:اوررحمٰن سےبےدیکھے ڈرے۔
دیکھو اس آیتِ مبارَکہ میں’’ڈر‘‘کو جَبّار، منتِقم اور متکبر جیسے صفاتی ناموں کے ساتھ