فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ۚ جَزَآءًۢ بِمَاکَانُوۡایَعْمَلُوۡنَ ﴿۱۷﴾
ترجمۂ کنز الایمان:تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لیے چھپا رکھی ہے صلہ اُن کے کاموں کا۔(پ۲۱،السجدة:۱۷)
ان آیات پرپوری طرح غور کرو پھر اس راہ پر چلنے کے لئے پوری طرح تیار اور بیدار ہو جاؤکیونکہ خوف واُمیدکامقام حاصل کرناآسان نہیں اورتوفیق دینےوالااللہ عَزَّ وَجَلَّہی ہے۔
خوف ورجا کے راستے پر چلنے کے تین اصول
جان لو کہ اس سُست وسرکش نفس کو اس وقت تک اس راہ پر نہیں چلایا جا سکتا جب تک اسے اس کی پسند سے نہ روکا جائے اور اس پر بھاری عبادتوں کابوجھ نہ ڈالا جائے اور ایسا اسی وقت ممکن ہے جب غفلت وسستی کی چادر اُتارکر درج ذیل تین اصولوں کی حفاظت و پابندی کی جائے:
(1)…اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ترغیب و ترہیب والے فرامین کو یاد کرنا ۔
(2)…پکڑ فرمانے اور معاف کرنے میں دستورِ الٰہی کو یاد کرنا ۔
(3)…روز قیامت بندوں کے لئےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ثواب یا عذاب کویاد کرنا۔
ان میں سے ہر اُصول کی تفصیل کے لئے کئی کئی دفتر درکار ہیں لیکن یہاں چند ایسے کلمات کا بیان ضروری ہے جو مقصود کی طرف تمہاری رہنمائی کر دیں۔
پہلا اصول
پہلااصول فرامیْنِ باری تعالیٰ کے بیان میں ہے لہٰذاتم شوق دلانے والی اور ڈرانے والی آیات مبارکہ میں غور وفکر کرو۔