Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
16 - 274
بِکُلِّ شَیۡءٍ عِلْمًا﴿۱۲﴾٪ (پ۲۸،الطلاق:۱۲)
	اور ارشاد فرماتا ہے:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنۡسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوۡنِ﴿۵۶﴾ (پ۲۷،الذٰریٰت:۵۶)
ترجمۂ کنزالایمان:اورمیں نےجن اورآدمی اتنے ہی(اسی)لئےبنائےکہ میری بندگی کریں۔
	علم اورعبادت کی شرافت و بزرگی کی دلیل کے لئے یہ دوآیاتِ مبارکہ کافی ہیں، پس بندے پر لازم ہے کہ ان دونوں میں مشغول رہے۔
علم عبادت سے افضل:
 	علم اورعبادت میں علم افضل واشرف ہے،اسی لئےحضورسَیِّدُ الْمُرْسَلِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ کَفَضْلِیْ عَلٰی اَدْنٰی رَجُلٍ مِّنْ اُمَّتِیْ یعنی عالِم کی عابدپرفضیلت ایسی ہےجیسےمیری فضیلت میری امت کےادنیٰ شخص پر۔(1)ایک مقام پرفرمایا:کیا میں تمہیں بلندمرتبہ جنتیوں کےبارے میں نہ بتاؤں؟صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننےعرض کی:یارسولَاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ضروربتائیے۔ارشادفرمایا:ہُمْ عُلَمَاءُ اُمَّتِیْوہ میری امت کےعلما  ہیں۔(2)
	لیکن بندے کےلئے علم کے ساتھ عبادت بھی ضروری ہے ورنہ اس کاعلم بکھرے ہوئےذرّےہوجائےگا،اس لئےکہ علم درخت اورعبادت پھل کی مانندہے،بزرگی درخت ہی کی ہےکیونکہ وہ اصل ہےمگراس کانفع اس کےپھل ہی سے ملتا ہے،لہٰذا بندے کے لئے علم وعبادت دونوں کا ہونا ضروری ہے۔پس پہلے تجھ پر علم سیکھنا لازم ہے تاکہ تیری
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…ترمذی،کتاب العلم،باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادة،۴/ ۳۱۳،حدیث:۲۶۹۴
2…تاریخ جرجان للسھمی،حرف الباء،ص۱۷۲،حدیث:۲۱۵