دوڑاؤگے تو تمہیںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وسیع رحمت، اس کے بے پایاں فضل و کرم اور اس کی بخشش و جُود کے وہ سمندر نظر آئیں گے کہ خوف و ڈر کا شائبہ بھی دل میں باقی نہیں رہے گااس طرح تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل پر بھروسا کر کے بے خوف ہو جاؤ گےاور اگر تم جانبِ خوف کی طرف دیکھو گے تو تمہیں خدا تعالیٰ کی عظیم تدبیر،بے انتہاہیبت،اُس کے معاملے کی گہرائی وپیچیدگی اوراپنے اولیا واصفیا کی ایسی سخت گرفت نظر آئے گی کہ اُمیدِ رحمت باقی نہیں رہے گی یوں تم مایوسی اور نااُمیدی کا شکار ہوجاؤ گے۔
لہٰذا ایسی صورتِ حال میں تم پرلازم ہے کہ محض اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وُسعتِ رحمت پر ہی اِنْحِصَار نہ کرو کہ بالکل بے خوف ہو جاؤ اور نہ محض اس کی عظیم ہیبت اور آخرت میں سخت باز پُرس پر نظر رکھو کہ مایوسی کا شکار ہو جاؤ بلکہ دونوں پہلوؤں کو پیشِ نظر رکھو۔ کچھ حصہ خوف کا لو اور کچھ اُمید کاپھر ان دونوں کی درمیانی راہ اخیتار کرکے اس باریک راہ پر چلو تاکہ بھٹکنے سے محفوظ رہو، کیونکہ صرف اُمید کا راستہ بڑاآسان اور بہت کشادہ ہے لیکن اس کی منزل اور اِنتہا عذابِ خدا سے بالکل بے خوفی اور خسارہ ہے، اسی طرح صرف خوف کا راستہ بھی بڑا وسیع وعریض ہے لیکن اس کا انجام ضَلالَت و گمراہی ہے۔ ان دونوں کے درمیان خوف واُمید کا معتدل راستہ ہے یہ اگرچہ دشوار اور تنگ ہے مگر سلامتی والا ہے، یہ راستہ مغفرت واحسان، جنت ورضوان اور ملاقاتِ رحمٰن کی طرف لے جاتا ہے، کیا اس راہ پر چلنے والوں کے بارے میں تم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمان نہیں سنا:
یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا ۫(پ۲۱،السجدة:۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور اُمید کرتے۔
اس کے بعد اگلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: