Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
158 - 274
 مُہْلِک راستوں کے درمیان ہے ایک راستہ عذابِ الٰہی سے بالکل بے خوف ہونے کا ہے اور دوسرا رحمت الٰہی سے مایوسی کاجبکہ ان دونوں خوفناک راستوں کے درمیان خوف واُمید کی گزرگاہ ہے، اگر امید کا تم پر اتنا غلبہ ہو گیا کہ خوف ختم ہو گیا تو تم عذابِ الٰہی سے بے خوفی والے راستے میں جا پڑو گے اور خسارہ اُٹھانے والے ہی اللہ عَزَّ    وَجَلَّکی تدبیر سے بے خوف ہوتے ہیں اور اگر تم پر خوف کا اتنا غلبہ ہو گیا کہ امیدِ رحمت ختم ہو گئی تو تم مایوسی کی راہ پر چل پڑو گے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے کافر ہی مایوس ہوتے ہیں اور اگر تم خوف وامیدکے درمیان رہے اور  دونوں کو ایک ساتھ مضبوطی سے تھام لیا تو یہی سیدھا راستہ ہے اوریہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ان اولیا ونیک بندوں کا راستہ ہے جن کی تعریف کرتے ہوئے ربّ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّہُمْ کَانُوۡا یُسٰرِعُوۡنَ فِی الْخَیۡرٰتِ وَ یَدْعُوۡنَنَا رَغَبًا وَّ رَہَبًا ؕ وَکَانُوۡا لَنَا خٰشِعِیۡنَ ﴿۹۰﴾(پ۱۷،الانبیآء:۹۰)
ترجمۂ کنزالایمان:بےشک وہ بھلے کاموں میں جلدی کرتے تھےاورہمیں پکارتےتھے امید اور خوف سے اور ہمارے حضور گڑ گڑاتے  ہیں۔
درمیانی راستہ اختیار کرو:
	جب تم پر خوب ظاہر اور واضح ہو گیا کہ اس گھاٹی کے تین راستے ہیں: (۱)…امن و بے باکی (مکمل بے خوفی) کا راستہ (۲)…نا اُمیدی اور مایوسی کا راستہ اور(۳)…ان دونوں راہوں  کے درمیان خوف و اُمید کا راستہ۔ تو اگر تم ایک قدم بھی اِدھر اُدھر ہوئے تو ہلاکت کے کسی راستے پر جا پڑو گے اور ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہو جاؤ گے۔پھرمعاملہ یہ ہے کہ دونوں ہلاکت خیز راستے زیادہ کشادہ، اپنی طرف زیادہ بلانے والے اور چلنے میں درمیانی راستے کے مقابلے میں بہت آسان ہیں، کیونکہ اگر تم جانبِ امن (بے خوفی) کی طرف نظر