اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے اُمید رکھنا کبھی فرض اور کبھی مستحب ہوتاہے۔اگر بندے کے لئے اُمید کے علاوہ مایوسی سے بچنے کاکوئی اور راستہ نہ ہو تو اُس وقت اُمید فرض ہوتی ہے اور اگر ایسا نہ ہو تویہ مستحب کے درجے میں ہے مگر ساتھ ہی دل میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل وکرم اور وسیع رحمت کا عقیدہ بھی اجمالی طور پر پختہ ہونا ضروری ہے۔
اُمید کے چار مقامات:
خوف کی طرح اُمید کے بھی چار مقامات ہیں:
(1)…بغیر کچھ کئے اوربغیرسفارش کے خود پر ہونے والے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے گزشتہ فضل کو یاد کرنا۔
(2)…اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے فضل وکرم سے جس عظیم عزت اور بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے اُسے یاد کرنا، اس لحاظ سے یاد نہ کیا جائے کہ تم اپنے عمل سے اس عزت وثواب کے مستحق ہو کیونکہ اگر اَجر و ثواب عمل کی حیثیت سے ملے تو وہ بہت تھوڑااور معمولی ہوگا۔
(3)…اُن کثیردینی ودنیاوی نعمتوں کو یاد کرنا جوبِن مانگے اور بغیر استحقاق مدد ومہربانی کی صورت میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ فی الحال فرما رہا ہے۔
(4)…رحمتِ الٰہی کی وسعت اوراُس کی رحمت کے اُس کے غضب پر حاوی ہونے کو یاد کرنا اور یہ کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ رحمٰن ورحیم، غنی وکریم اور اپنے مومن بندوں پر بہت مہربان ہے۔
جب تم خوف وامیدکےمذکورہ مقامات کویادکرتےرہوگےتوہرحال میں خوف واُمید کی کیفیت رہے گی۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے فضل واحسان سے توفیق عطا فرمائے۔
یہی سیدھا راستہ ہے:
خوف واُمید کی یہ گھاٹی بہت دشوار گزار ہے کیونکہ اس کی گزرگاہ دو خوفناک اور