Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
156 - 274
 کا بیان  یوں کیا کہ اسے برداشت کرنے کی طاقت ہی نہیں لہٰذاتم پر لازم ہے کہ خوف وامید کے اس معنیٰ کویاد رکھو تاکہ  تمہیں مراد میں کامیابی اور عبادت میں مشقت برداشت کرنا آسان ہو جائے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے فضل سے توفیق عطا فرمائے۔
خوف کی تعریف:
	اَلْخَوْفُ ہُوَالْخَشِیَّۃُ الَّتِیْ تَقْتَضِیْ ضَرْبًامِّنَ الْاِسْتِعْظَامِ وَالْمُہَابَۃِ وَضِدُّہُ الْجُرْءَۃُ یعنی خوف اُس ڈر کو کہتے ہیں جو ایک طرح کی عظمت و ہیبت کا تقاضا کرے اور اس کی ضد جرأت ہے۔ 
خوف کے چار مقامات:
	خوف کے درج ذیل چار مقامات ہیں:
(1)…گزشتہ کثیر گناہوں کو یاد کرنا اور ان کثیر جھگڑوں کو یاد کرنا جن میں تم پر مطالبات ہیں اور ان کی ادائیگی سے چھٹکارے کا تمہیں علم نہیں۔
(2)…اللہ عَزَّ وَجَلَّکی سخت پکڑ کو یاد کرنا جسے برداشت کرنے کی تم میں طاقت نہیں۔
(3)…عذابِ الٰہی کے سامنے اپنی کمزوری وناتوانی کو یاد کرنا۔
(4)…خود پر اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قدرت کو یاد کرنا کہ وہ جب چاہے جیسے چاہے کر سکتا ہے۔
اُمید کی تعریف:
	اَلرِّجَاءُ فَہُوَ اِبْتِہَاجُ الْقَلْبِ بِمَعْرِفَۃِ فَضْلِ اللہِ وَاِسْتِرْوَاحُہٗ سِعَۃَ رَحْمَتِہٖ وَضِدُّہٗ  اَلْیَاْسُ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّکےفضل کو پہچان کر دل میں خوشی کی لہر دوڑنے اور رحمت الٰہی  کی وسعت سے راحت پانے کو اُمید کہتے ہیں اور اس کی ضد مایوسی ہے ۔
	اور مایوسی کہتے ہیں:اَلْیَاْسُ وَہُوَ تَذْکِرَۃُ فَوَاتِ رَحْمَۃِ  اللہِ وَفَضْلِہٖ وَقَطْعُ الْقَلْبِ عَنْ ذَالِکَ یعنی اللہ  عَزَّوَجَلَّکےفضل و رحمت نہ ملنےکویادکرنااوردل میں اس کی اُمیدنہ رکھنا۔“اوریہ گناہ ہے۔