خوف کا ڈنڈا اور اُمید کا چارہ:
جب معلوم ہو گیا کہ بندگی کا مدار دو چیزوں پر ہے ایک عبادت کی بجا آوری اور دوسرا گناہوں سے بچنا تو ان میں کوشش کرنا ضروری ہے اور یہ مقصدبُرائی کا حکم دینے والے نفس کی موجودگی میں اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب اسے ترغیب وترہِیب اور خوف واُمید کے ذریعے اس طر ف متوجہ رکھا جائے کیونکہ سَرکَش چوپایہ یوں ہی قابو میں رہتا ہے جب ایک شخص آگے سے کھینچے اور دوسرا پیچھے سے ہانکے اور اگر وہ چوپایہ کسی گڑھے میں گر جائے تو ایک طرف سے ڈنڈے برسائے جاتے ہیں تو دوسری طرف سے سبز چارہ دکھایا جاتا ہے تب کہیں جاکر وہ اس گڑھے سے نکلتا ہے۔یونہی بچہ تعلیم کی طرف صرف اس صورت میں توجہ کرتا ہے کہ اس کے والدین اسے کئی طرح کا لالچ دیں اور استاذ اپنے رُعب اور دبدبے میں رکھے۔ بالکل یہی حالت اس نفْسِ اَمَّارہ (برائی کا حکم دینے والے نفس)کی ہے یہ بھی ایک سَرکش چوپایہ ہے جو شہوتوں کی چراگاہ میں رہنے کا سخت مُشتاق ہے، خوف اس کے لئے ڈنڈا اور ہانکنے والے کا کام دیتا ہے اور اُمید ِثواب و نجات اس کے لئے سبز چارہ ہے جس سے اِطاعت کی طرف راغب ہوتا ہے نیز یہ نفس بچے کی مانند ہے جسے عبادت و تقوٰی کے مکتب لے جانا ہے پس دوزخ اور عذاب کا ذکر اس میں ڈر پیدا کرتا ہے اور جنت وثواب اس میں اُمید و رغبت پیدا کرتے ہیں۔
خوف ورجا میں مبالغہ:
یونہی عبادت وریاضت کے طالب پر لازم ہے کہ نفس کواِن دو چیزوں خوف اور امید کاشعور دلائے ورنہ یہ سرکش نفس عبادت وریاضت کی کوشش نہیں کرے گا ،یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید میں مبالغے کی حد تک وعدہ ووعیداور ترغیب وتہدید کا ذکر کیا گیا ہے، ثواب کا ذکر اس پیرائے میں ہے کہ خود بخود اس کی طرف بڑھا جائے اور دردناک عذاب