طَاعت میں پیش آنے والی مشقتیں آسان ہوجاتی ہیں، انہیں دنیا کی لذتیں اور نعمتیں فوت ہونے پرکوئی دُکھ اور رنج محسوس نہیں ہوتا اوروہ دنیا میں ہر طرح کی ذلت ورسوائی اور تکلیف ومشقت بخوشی برداشت کرتے ہیں۔
مسکراہٹ کا نور:
حضرت سیِّدُنا سُفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکے ساتھیوں نے آپ کے خوفِ خدا، عبادت میں انتہائی کوشش اورخستہ حالی کو دیکھ کرعرض کی: استادِمحترم!اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے چاہا تو آپ اس سے کم دَرَجے کی کوشش کے ذریعہ بھی اپنی مراد پالیں گے۔آپ نے جواب دیا:میں کوشش کیوں نہ کروں حالانکہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ اہْلِ جنت اپنی مَنَازِل و مکانات میں تشریف فرما ہوں گے کہ اچانک ان پر نُور کی ایک تجلی پڑے گی جس سے آٹھوں جنتیں جگمگا اُٹھیں گی، جنتی گمان کریں گے یہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات کا نُور ہے تو سجدے میں گر پڑیں گے،انہیں ندا ہوگی:اپنے سر سجدے سے اُٹھالو، یہ وہ نہیں ہے جو تم سمجھ رہے ہویہ تو جنتی عورت(حور)کی مسکراہٹ کا نور ہے جو اپنے شوہر کے لئے مسکرائی ہے۔پھرآپ نے یہ اَشعار پڑھے:
مَا ضَرَّ مَنْ کَانَتِ الْفِرْدَوْسُ مَسْکَنُہٗ مَاذَا تَحَمَّلَ مِنْ بُؤْسٍ وَّ اِقْتَارِ
تَرَاہٗ یَمْشِیْ کَئِیْبًا خَائِفًا وَّجِلًا اِلَی الْمَسَاجِدِ یَمْشِیْ بَیْنَ اَطْمَارِ
یَا نَفْسُ مَالَکِ مِنْ صَبْرٍ عَلَی النَّارِ قَدْ حَانَ اَنْ تُقْبِلِیْ مِنْ بَعْدِ اِدْبَارِ
ترجمہ:مصیبت و تنگ حالی برداشت کرنا اسے نقصان نہیں دیتا جس کا ٹھکانا جنت الفردوس ہو۔تم اُسے غم میں ڈوبا، خوفزدہ،گھبرایا ہوا اور پُرانے کپڑوں میں مسجدوں کی طرف جاتا دیکھو گے۔ اے نَفْس! تو دوزخ کی آگ کیسے برداشت کرے گا جبکہ پلٹنے کے بعد تیرا آنا طے ہوچکا۔