ہے جو ان رُکاوٹوں کے برابر ہو بلکہ ان سے بڑھ کرہو تاکہ ان کا مقابلہ کر سکے اور وہ چیز اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے قوی اُمید اور بہترین ثواب اور اچھی جزا کی انتہائی رغبت ہے۔
عبادت کی ہمت :
حضرت سیِّدُناامام الحرمین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:غم کھانے سے روکتا ہے، خوفِ خداگناہوں سےبازرکھتاہے،اُمیدعبادات کی ہمت پیداکرتی ہےاورموت کی یادغیرضروری شے سے بے رغبت کرتی ہے۔
(۲)…اُمیدکےسبب مَشَقَّت اور تکلیف برداشت کرناتمہارےلئےآسان ہوجائے گا۔ جان لو کہ جو اپنے مطلوب کو پہچان لیتا ہے تواُسے اُس کے حصول کے لئے ہر چیز خرچ کرنا آسان ہو جاتا ہے اور جسے کوئی شے اچھی لگے اور وہ اس میں کما حقہ رغبت رکھتا ہو تووہ اس کی خاطر شدت وسختی برداشت کر لیتا ہے اور جتنی بھی محنت ومَشَقَّت کرنی پڑے پروا نہیں کرتا اوریوں ہی جو کسی سے محبت کرتا ہے تو اس کی خاطر مشکلات برداشت کرنے میں بھی کئی طرح کی لذتیں پاتا ہے۔کیاتم دیکھتے نہیں کہ شہد فروخت کرنے والا نفع کی خاطر مکھیوں کے ڈسنے کی تکلیف محسوس نہیں کرتا اور مزدور گرمیوں کے لمبے لمبے دنوں کی کڑاکے کی دھوپ میں سارا دن دو درہم کے لئے بھاری بوجھ سر پر اُٹھا کر اونچی اونچی سیڑھیوں پر چڑھتاہے اور اسی طرح کسان اناج کے حصول کی خاطرسارا سال محنت ومشقت برداشت کرنے اورگرمی سردی کی تکلیف اُٹھانے کوآسان جانتا ہے۔
اے میرے بھائی !اسی طرح یہ کوشش ومحنت کرنے والے بندے جب جنت میں حاصل ہونے والے آرام و آسائش، کھانے پینے، حور و قُصُور،خوش نما زیور و لباس اورجنتیوں کےلئےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی تیارکردہ نعمتوں کویادکرتےہیں توان پرحق تعالیٰ کی عبادت و