دو کے کئے پر کی جاتی تو ہمیں ایسا عذاب دیا جاتا جیسا تمام جہانوں میں کسی کو نہ دیا گیا ہو۔‘‘(1)
حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں: ہم میں سے کوئی شخص اس بات سے بے خوف نہیں ہوسکتا کہ ”اس نے اپنی زندگی میں کوئی گناہ کیا اوراس کے سبب بخشش کا دروازہ بند ہوچکا ہو تو اس کے بعد کے نیک اَعمال کسی شمار میں نہ آرہے ہوں۔“
نفس کو ڈانٹ ڈپٹ:
سیِّدُناابن سماکرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہنےاپنےنفس کویوں ڈانٹ پلائی:اےنفس!توباتیں تو زاہدوں والی کرتاہےاورعمل منافقوں والاکرتاہےپھربھی جنت کی لالچ رکھتاہے،تجھ پر افسوس ہے،جنت توان لوگوں کےلئےہےجوایسےاعمال کرتےہیں جیسےتونہیں کرتا ہے۔
ایسےواقعات کا یاد کرنا اور انہیں دُہراتے رہنا بندے کے لئے ضروری ہے تاکہ وہ عبادت پر خودپسندی میں مبتلا نہ ہو اور گناہ سے باز رہے۔
اُمید دو وجہ سے ضروری ہے:
جہاں تک امیدکی بات ہےتواس کاشعورہونابھی تمہارےلئےدووجہ سےضروری ہے:
(۱)…امید کی بدولت تمہیں نیک کاموں کا جذبہ ملے گا،وہ اس طرح کہ نیک عمل کی انجام دہی نفس پر گِراں ہوتی ہے، شیطان بھی نیکی کی طرف رُخ نہیں کرنے دیتا اور نفسانی خواہشات بدی کی طرف کھینچتی ہیں نیزنفس اہْلِ غفلت کی عادتوں کا اثر جلد قبول کرتا ہے جبکہ آخرت میں نیکیوں پرملنے والا ثواب فی الحال آنکھوں سے پوشیدہ ہے اوراسے پالینے کا معاملہ بعید ہے۔ جب صورتِ حال یہ ہو تونیک کاموں کی طرف نفس کامتوجہ ہونا اور پوری رغبت سے تیار ہونا ایک مشکل کام ہے ایسی صورت حال میں کسی ایسی چیز کاہونا ضروری
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…ابن حبان،کتاب الرقاق،باب الخوف والتقوی،۲/۲۷،حدیث:۶۵۶بتغیر قلیل