پانچویں گھاٹی: عبادت پر اُبھارنے والی باتوں کا بیان
اےمیرے عزیز بھائی! جب تجھے درست راستہ معلوم ہوگیااور اس پر چلنا آسان ہوگیا، رُکاوٹیں دورہوگئیں تواب تجھےاس راہ پرچلناضروری ہےلیکن اس پرچلنااس وقت تک ممکن نہیں جب تک تجھےخوف اوررَجاء(اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت سےامید)کاشُعُورحاصل نہ ہوجائےاور توان دونوں کواپنا نہ لے۔جہاں تک خوف کی بات ہے تو اسے دو وجہ سے اپنانا ضروری ہے:
(۱)…خوف گناہوں سے روکتا ہے کیونکہ نفس بُرائی کا حکم دیتا، بُرائی کی طرف مائل ہوتا اور فتنے کا دلدادہ ہے لہٰذاتم اسےبڑے خوف اور انتہائی تنبیہ کےذریعے ہی روک سکتے ہو۔ یہ فطری طور پر شریف نہیں ہے کہ وفا وحیا کا پاس رکھتے ہوئے جفاکشی سے باز رہے، اس کا علاج یہی ہے کہ قولی، فعلی اور فکری طور پر خوف کے کوڑے سے اسے ڈراتےرہو۔ ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے بارے میں منقول ہے کہ نفس نے انہیں گناہ کی طرف بلایا تو وہ باہر نکلے اور صحرا میں جا کر اپنا لباس اتار کے تپتی ریت پر لوٹ پوٹ ہوتے ہوئے اپنے نفس سے کہنے لگے: اے رات کے مردار اور دن کے ضائع کرنے والے نفس!اس گرمی کو چکھ کیونکہ جہنم کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے۔
(۲)…خوف اپنانا اس لئے ضروری ہے کہ عبادت پر خود پسندی میں مبتلا ہو کر ہلاک نہ ہو جائے بلکہ نفس کو مذمت، عیب اور نقص وکمی وغیرہ کے ذریعے رُسوا کرتا رہے کیونکہ نفس کی برائیوں میں بڑے خطرات ہیں ۔
حضور نبیِّ کریم،رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے (خوف کی تعلیم دینے یا تواضع کے لئے)اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:’’لَوْ اَنِّیْ وَ عِیْسٰی اُخِذْنَا بِمَا اکْتَسَبَتْ ھَاتَانِ لَعُذِّبْنَا عَذَابًا لَّمْ یُعَذَّبْہُ اَحَدٌ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَیعنی اگرمیری اور عیسیٰعَلَیْہِ السَّلَامکی پکڑ ان