میں بعض مقامات پراِحْیَاءُ الْعُلُوْم اوردیگر عارفین کابھی کچھ کلام شامل کردیاہےاور اس سےمیرامقصدصرف ایک جیسی باتوں کویکجاکرناہےاورمیں نےاس خلاصےکوحضرت سیِّدُنا امام غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی کی ترتیب کے مطابق رکھا ہے۔
آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےاسےسات گھاٹیوں پرمرتب فرمایاہے:(۱)علم کی گھاٹی (۲)توبہ کی گھاٹی(۳)عوائق وموانع(رُکاوٹوں)کی گھاٹی(۴)عوارض کی گھاٹی(۵)بواعث یعنی عبادت پراُبھارنےوالی چیزوں کی گھاٹی(۶)…قوادح یعنی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے والی چیزوں کی گھاٹی اور(۷)…حمد وشکر کی گھاٹی۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
پہلی گھاٹی: علم کا بیان
علم وعبادت کی اہمیت:
اےاخلاص اورعبادت کےطلب گار!اللہ عَزَّ وَجَلَّتجھے توفیق بخشے۔سب سے پہلےتجھ پرعلم حاصل کرنا لازم ہےکیونکہ علم مرکزہےاورسارادارومداراسی پر ہے، اس کے بعد تجھ پرعبادت لازم ہے۔ علم وعبادت ہی کی وجہ سے کتابیں نازل کی گئیں اوررُسُلعَلَیْہِمُ السَّلَامبھیجے گئےبلکہ آسمانوں ، زمین اورجوکچھ ان میں ہے سب کی تخلیق بھی اسی لئے فرمائی گئی ہے،اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:
اَللہُ الَّذِیۡ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَہُنَّ ؕ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیۡنَہُنَّ لِتَعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ۬ۙ وَّ اَنَّ اللہَ قَدْ اَحَاطَ
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ ہے جس نے سات آسمان بنائےاورانہی کےبرابرزمینیں حکم ان کے درمیان اُترتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہسب کچھ کر سکتا ہے اور اللہ کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔