یہ تو ایک بادل ہے عنقریب چھٹ جائے گا۔ اےنفس!تھوڑا صبر کر اس کے بدلے تجھے طویل خوشی اوربہت زیادہ ثواب عطاہوگاکیونکہ اُتری ہوئی مصیبت دورہوسکتی ہےنہ بےصبری کا کوئی فائدہ ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ صبر وتحمل کے ہوتے ہوئے کوئی مصیبت مصیبت نہیں لگتی، ایسے میں تمہیں چاہیے کہ اپنی زبان پر اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْن کا وِرد رکھو اور دل میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ سے ملنے والے انعامات کو یاد کرو اوراس کے ساتھ بڑی بڑی آزمائشوں پراُولُوالعزم انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام اور اولیائے عظام کے صبر کو یاد کرو۔جب تم سے کسی وقت میں دنیا (رزق اورمال ودولت) روک دی جائے تو اپنے نفس سے کہو:اے نفس! اللہ عَزَّ وَجَلَّ تیرے حال کوبہتر جانتا ہے اور وہ تیرے لئے بہت زیادہ رحیم وکریم ہے ، وہ کتے کے خسیس ہونے کے باجود اور کافر کے دشمن ہونے کے باوجودانہیں کھلاتا ہے جبکہ میں اس کا بندہ ہوں، اسے ایک مانتا ہوں تو کیا میں اُس کے ہاں ایک روٹی کا بھی مستحق نہیں ؟ اے نفس ! اچھی طرح جان لے کہ اگر وہ تجھ سے کچھ روکتا ہے تو اس میں تیرا بہت بڑا نفع ہے اور عنقریب اللہ عَزَّ وَجَلَّہر تنگی کے بدلے آسانی عطا فرمائے گا لہٰذاتھوڑا صبر کر پھر تو اُس کے بنائے ہوئے نرالے عجائبات دیکھے گا۔ کیا تو نے کہنے والے کی یہ بات نہیں سنی:
تَوَقَّعْ صُنْعَ رَبِّکَ سَوْفَ یَاْتِیْ بِمَا تَھْوَاہٗ مِنْ فَرَجٍ قَرِیْبٍ
وَ لَا تَیْاَسْ اِذَا مَا نَابَ خَطْبٌ فَکَمْ فِی الْغَیْبِ مِنْ عَجَبٍ عَجِیْبِ
ترجمہ:اپنےربّ کےکام کاانتظارکرو،عنقریب تمہیں تمہاری خواہش کےمطابق کشادگی مل جائےگی اورجب کوئی مصیبت پہنچےتومایوسی کاشکارنہ ہوکیونکہ پردۂ غیب میں بڑےعجائب وغرائب ہیں۔
جبکہ ایک اور شاعر نے کہا: