Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
148 - 274
	لہٰذاتم پرلازم ہےکہ اس نفیس اورعُمْدَہ  صفت کواپنےاندرپیداکرواوراس کے حُصُول کےلئےپوری کوشش کرو،اس کےذریعےتم کامیاب لوگوں میں سےہوجاؤگے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی توفیق کا مالک ہے۔
صبرکی حقیقت:
	صبر کی حقیقت نفس کو روکناہے اور جب ”صبر“ کی نسبت اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف ہو تو اس سےمرادیہ ہو گی کہ  باری تعالیٰ مجرموں سےاپناعذاب روک رکھتاہےاورانہیں جلد عذاب نہیں دیتا ۔ 
	انسان کوصبرپر اُبھارنے والی چیز یہ ہے کہ وہ سختی کی مقداراور اس کے وقت کو یاد کرےکہ یہ نہ کم ہو گی نہ زیادہ، نہ اپنے وقت سےپہلے آئے گی نہ بعد میں لہٰذابے صبری کرنے کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ اس میں اُلٹا نقصان ہے۔نیز یہ یادکرے کہ صبرکی بدولت  بارگاہ الٰہی سے بہترین بدلہ ملے گا اور اس کے ہاں عمدہ ذخیرہ جمع ہوگا۔
تھوڑے صبر پر طویل خوشی:
	جب تمہیں کوئی مصیبت  پہنچے یا ناپسندیدہ شے در پیش ہوتو تم پر لازم ہے کہ اپنے نفس کا دھیان  رکھواور دل کو قابومیں کرو تاکہ وہ بے صبری وگھبراہٹ ظاہر نہ کرے اور تم سے کسی شکوہ شکایت کا ظہور نہ ہو۔ بالخصوص اول صدمہ کے وقت یعنی صدمہ پہنچتے ہی صبر ہونا چاہیے کیونکہ اس کی ضرورت واہمیت اسی وقت ہے جبکہ نفس بے صبری اور رونے پیٹنے کی جلدی کرتا ہے،لہٰذا تم نفس سے کہو:اے نفس! یہ مصیبت وآفت نازل ہوگئی ہے اب  اِسے ٹالنے کی کوئی صورت نہیں یقینا اللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے بڑی بڑی آفات دور فرما چکا ہے کیونکہ آفتوں کی بہت ساری قسمیں ہیں اوریہ بھی اپنےوقت پرختم ہوجائےگی اورباقی نہ رہےگی،