فَاصْبِرْ ؕۛ اِنَّ الْعَاقِبَۃَ لِلْمُتَّقِیۡنَ ﴿٪۴۹﴾(پ۱۲،ھود:۴۹)
ترجمۂ کنزالایمان:توصبرکروبےشک بھلاانجام پرہیزگاروں کا۔
صبرکا تیسرافائدہ:
صبر سے مرادومقصود میں کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَ تَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ الْحُسْنٰی عَلٰی بَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ ۬ۙ بِمَا صَبَرُوۡا(پ۹،الاعراف:۱۳۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور تیرے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل پر پورا ہوا بدلہ اُن کے صبر کا۔
منقول ہےکہ حضرت سیِّدُنایوسفعَلَیْہِ السَّلَامنےاپنےوالدمحترم حضرت سیِّدُنایعقوب عَلَیْہِ السَّلَامکے مکتوب کےجواب میں لکھا:اٰبَاءُ کَ صَبَرُوْافَظَفَرُوْافَاصْبِرْکَمَاصَبَرُوْاتَظْفَرْ کَمَا ظَفَرُوْا یعنی آپ کے آباء واجداد نے صبر کیا تو کامیاب ہوئے پس آپ بھی اُن کی طرح صبرکیجئے تو آپ بھی اُن کی طرح کامیاب ہو جائیں گے۔
صبرکا یہ فائدہ ان اشعارمیں بھی بیان ہوا ہے:
لَا تَیْاَسَنَّ وَاِنْ طَالَتْ مُطَالَبَۃٌ اِذَا اسْتَعْنَتَ بِصَبْرٍ اَنْ تَرَی فَرَجَا
اَخْلِقْ بِذِی الصَّبْرِ اَنْ یَحْظَی بِحَاجَتِہٖ وَ مُدْمِنِ الْقَرْعِ لِلْاَبْوَابِ اَنْ یَّلِجَا
ترجمہ:مایوس ہرگزنہ ہو،اگرچہ مطالبےکوعرصہ گزرجائے،اگرتوصبرسےمددلےگاتو کشادگی کو دیکھ لے گا۔اپنی حاجت پالینے والے صابر انسان کی مانند ہوجااور داخل ہونے کے لئے دروازوں پر مسلسل دستک دینے والے کی طرح ہوجا۔
صبرکا چوتھافائدہ:
صبرکےذریعےلوگوں کی پیشوائی وامامت کادرجہ نصیب ہو تاہے۔فرمانِ الٰہی ہے: