اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کا پختہ ارادہ رکھتا ہے اُسے سب سے پہلے طویل صبرکا پختہ ارادہ کرنا ہوگا اور خودکوموت تک پے درپے آنے والی مصیبتیں برداشت کرنے کاعادی بناناہوگا ورنہ ایسے کام کاارادہ کرتا ہے جس کے ہتھیار سے محروم ہے اور اس کی تکمیل کے ذریعے کو چھوڑ کر اُسے کرنا چاہتا ہے ۔
چار موتیں:
حضرت سیِّدُنافُضَیْل بن عِیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے منقول ہے:جو شخص راہِ آخرت طے کرنے کا ارادہ کرے وہ اپنے اوپر چارقسم کی موتیں لازم کرلے:سفید،سیاہ،سرخ اور سبز۔ سفید موت بھوک ہے، سیاہ موت لوگوں کا مذمت کرناہے، سرخ موت شیطان کی مخالفت ہےاور سبزموت پے درپے آنے والی مصیبتوں پر صبر کرناہے۔
امْرِ دُوُم اور صبرکا پہلافائدہ:
جن دواُمورکےلحاظ سےبہت سی جگہوں پرصبرضروری ہےاُن میں سےدوسراصبر میں دنیا وآخرت کی بھلائی ہے۔صبرمیں نجات وکامیابی ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:
وَ مَنۡ یَّـتَّقِ اللہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا ۙ﴿۲﴾ وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیۡثُ لَا یَحْتَسِبُ(پ۲۸،الطلاق:۲، ۳)
ترجمۂ کنزالایمان:اورجواللہسےڈرےاللہ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو۔
اس کا معنیٰ ومفہوم یہ ہے کہ ’’جو صبر کے ساتھ اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرتا ہے تو وہ اس کے لئے مصیبتوں سے نجات کی راہ نکال دے گا۔‘‘
صبرکادوسرافائدہ:
صبرسے دشمنوں پر کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: