ا ہے،جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے جتنا قریب ہوتا ہے دنیا میں اس کے مصائب بھی اتنے ہی کثیر اور تکلیف دہ ہوتے ہیں کیا تم نے رسولِ خدا، تاجدارِ انبیاءصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمان نہیں سنا:اَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً اَلْاَنْبِیَاءُ ثُمَّ الشُّھَدَاءُ ثُمَّ الْاَمْثَلُ فَالْاَمْثَلُیعنی لوگوں میں سب سے کڑی آزمائش انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَامکی ہوتی ہے پھر شہدا کی پھر ان سے کم مرتبہ پھر ان سے کم مرتبہ والوں کی۔(1)جو شخص بھی نیکی کاارادہ کرکے راہِ آخرت اختیار کرے گا وہ ضرور ان سختیوں اور مصیبتوں میں مبتلا ہوگا۔اگر وہ ان پرصبر نہ کرسکا اور انہیں برداشت نہ کرسکا تو راستے میں ہی رہ جائے گا اور عبادت سے محروم ہو گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بالکل واضح طور پر ہمیں فرما دیا کہ ہم تمہیں تکالیف ومصائب میں مبتلا کریں گے۔ چنا0نچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
لَتُبْلَوُنَّ فِیۡۤ اَمْوَالِکُمْ وَاَنۡفُسِکُمْ ۟ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ مِنۡ قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیۡنَ اَشْرَکُوۡۤا اَذًی کَثِیۡرًا ؕ(پ۴،اٰل عمرٰن:۱۸۶)
ترجمۂ کنزالایمان:بےشک ضرورتمہاری آزمائش ہو گی تمہارے مال اور تمہاری جانوں میں اور بےشک ضرور تم اگلے کتاب والوں اور مشرکوں سے بہت کچھ برا سنو گے۔
وَ اِنۡ تَصْبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الۡاُمُوۡرِ ﴿۱۸۶﴾(پ۴،اٰل عمرٰن:۱۸۶)
ترجمۂ کنزالایمان:اوراگرتم صبرکرواور بچتے رہو تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔
پھرارشادفرمایا:
گویاکہ فرماتا ہے:تم خود کو یقین دلا دوکہ تمہیں ضرورمختلف مصیبتیں پہنچیں گی، اگر صبر کرو گے تو تم ہی مرد ہو اورتمہارے پختہ ارادے مردوں والے ارادے ہیں۔“پس جو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… ترمذی،کتاب الزھد،باب ماجاء فی الصبر علی البلاء،۴/ ۱۷۹،حدیث:۲۴۰۶،دون ذکر ”الشھداء“
مستدرک حاکم،کتاب معرفة الصحابة،باب محنة ابى ذر، ۴/۴۱۱،حدیث:۵۵۱۴، دون ذکر ”الشھداء“