Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
142 - 274
تک نہیں پہنچ پاتا۔ یوں کہ جو اللہ    عَزَّ     وَجَلَّکی عبادت اور گوشہ نشینی کا ارادہ رکھتا ہے اسے درج ذیل وجوہات سے مصیبت وپریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
	 پہلی وجہ:کوئی عبادت ایسی نہیں جس میں مَشَقَّت نہ ہواسی لئے اس کی ترغیب اور اس پر ثواب کی نوید آئی ہے کیونکہ عبادت نفس پر جبر اور خواہش کا قلع قمع کر کے ہی  ادا کی جا سکتی ہے اور یہ دونوں ہی خیر سے روکنے والے ہیں اور انسان پر نفس وخواہش کی مخالفت کرنا مشکل ترین معاملہ ہے۔
	دوسری وجہ:جب بندہ مَشَقَّت کے ساتھ کوئی نیک کام کرتا ہے  تواسے بچانے کے لئے لازمی طور پر احتیاط سے کام لیناپڑتا ہے اور عمل کو بچانا عمل کرنے سے زیادہ مشکل ہے۔
سختیوں کی اقسام:
	تیسری وجہ:یہ دنیا پریشانیوں کا گھر ہے جو بھی اس میں رہے گا اسے مصیبتیں اور سختیاں جھیلنا پڑیں گی اور ان کی بہت ساری اقسام ہیں مثلاً:اہل وعیال، عزیز رشتہ دار، بھائی یا دوست وغیرہ میں مصیبت موت، گمشدگی اور جُدائی ہے،ذات میں مصیبت کئی طرح  کے امراض اور دردہیں،عزت وناموس میں مصیبت لوگوں کا اس سے قتال کرنا، طمع ولالچ رکھنا ،اس کی بیوی بچوں پرظلم وستم کرنااوراس کی غیبت کرنااور اس پر جھوٹ والزام رکھنا ہے اورمال میں مصیبت اس کا ضائع وبرباد ہوجانا ہے ۔ ان میں سے ہر مصیبت میں کسی نہ کسی طرح کا درد اور اذیت ہے لہٰذا ان میں سے ہرمصیبت پر صبر کی ضرورت ہے ورنہ بے صبری اور غم عبادت کے لئے فراغت سے رکاوٹ بنیں گے ۔
مَردوں والے ارادے:
	چوتھی وجہ:طالبِ آخرت بہت زیادہ اور انتہائی تکلیف دہ مصائب میں گرفتارہوت