Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
141 - 274
 کرنا چاہیے اور وہی ہمیں کافی اور ہمارا کار ساز ہے۔وہ ایسا قدیر ہے کہ اس کی قدرت کی انتہا نہیں اور ایسا حکیم ہے کہ اس کی حکمتوں کی حد نہیں اور ایسا رحیم ہے کہ اس کی رحمتوں کی اِنتہا نہیں۔اے نفس! جوایسی صفات وشان کا مالک ہے وہی اس بات کاحقدار ہے کہ  تواس پرتوکل وبھروساکرےاوراپناہرمعاملہ اس کےسپردکردےپس تجھ پرتفویض(یعنی اپنے اُمُوراُس کے سپرد کرنا) لازم ہے۔
	تم اپنے دل کو اس بات کے لئے بھی مضبوط وپختہ کرو کہ”اللہ  عَزَّ وَجَلَّ تمہارے لئے جو فیصلہ فرماتا ہے وہی زیادہ موافق اور زیادہ بہتر ہے  اور بِلاشُبہ ہمارا علم اُس کی کیفیت اور راز کو پہنچ نہیں سکتا۔“اور اپنے نفس  سے کہو:اے نفس!تقدیرکالکھاضرور ہو کر رہے گا،اب  غصہ وناراضی کی نہ کوئی وجہ ہے نہ کوئی فائدہ اور بہتری اسی میں ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کرے گا۔ اے نَفْس!کیا تو یہ نہیں کہتا کہ” میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ربّ ہونے پر راضی ہوں۔“ تو پھر اس کی تقدیر پر  راضی کیوں نہیں حالانکہ تقدیروفیصلہ رَبُوبِیَّت کی شان اور اس کا حق ہے لہٰذا تجھے قضائے الٰہی پر راضی رہنا لازم ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّتوفیق عطا فرمانے والاہے۔
چوتھا عارضہ:تکالیف وسختیاں
	اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت سے رُکاوٹ بننے والے عوارض میں سے  چوتھا عارضہ تکالیف وسختیاں ہیں۔ان کا علاجبھی صبر ہی ہے۔ بہت سی جگہوں پر صبر کرنا تمہارے لئے دو اُمورکے لحاظ سے ضروری ہے:
اَمرِاوّل:
	پہلاامرعبادت تک رسائی اوراس سے مقصود کا حصول ہے،کیونکہ ہرعبادت کی بنیاد صبر اورمَشَقَّت برداشت کرنے پر ہے ، جو صبر نہیں کرتا وہ درحقیقت عبادت اور اس کے مقصود