ہو۔لہٰذاتماللہ عَزَّ وَجَلَّپرتوکل کرواوراپنےکاموں کی تدبیراُس کےسپردکردوجوزمین وآسمان کی تدبیرفرمانےوالاہےاورخودکوایسے کاموں سے نجات دو جس کا تمہیں علم نہیں جیسے یہ کام کل ہوگا یا نہیں ہوگا؟اور یہ کیسے ہوگا؟یوں ہی’’شاید‘‘ اور ’’اگر ‘‘وغیرہ سے بچاؤکہ اس سے وقت کا ضیاع اور دل کی مشغولیت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا،ممکن ہے کہ کل ایسے حالات سامنے آجائیں جن کا تمہیں وہم و گمان بھی نہ تھا اور جو باتیں اورمنصوبے تم بنا رہے تھے اور جن معاملات میں تم غور و خوض کر رہے تھے ان میں سے کوئی نہ ہوسکے اور سوچ و بچار میں بے فائدہ وقت ضائع ہو جائے بلکہ دل کی مصروفیت اور عمر بربادہوجانے پر خسارہ اور پشیمانی اُٹھانی پڑے۔
کسی شاعر نے کہا:
سَبَقَتْ مَقَادِیْرُ الْاِلٰہِ وَ حُکْمُہٗ فَاَرِحْ فُؤََادَکَ مِنْ لَّعَلَّ وَ مِنْ لَّوْ
ترجمہ:اللہ عَزَّ وَجَلَّکی تقدیریں اور اس کا فیصلہ ہو چکا لہٰذا اپنے دل کو’’ شاید‘‘ و ’’اگر‘‘ کے چکر سےمحفوظ رکھو۔
ایک اور شاعر نے کہا:
سَیَکُوْنُ مَا ھُوَ کَائِنٌ فِیْ وَقْتِہٖ وَ اَخُو الْجَھَالَۃِ مُتْعَبٌ وَّ مَحْزُوْنُ
فَلَعَلَّ مَا تَخْشَاہٗ لَیْسَ بِکَائِنٍ وَّ لَعَلَّ مَا تَرْجُوْہُ لَیْسَ یَکُوْنُ
ترجمہ:جوہونےوالاہےوہ اپنےوقت میں ہوکررہےگااورجاہل وبےخبرشخص مشقت وغم برداشت کرتا ہے توجس کا تجھے ڈرہے شاید وہ واقع نہ ہو اور جس کی تجھے اُمید ہے شایدوہ بھی نہ ہو۔
نفس کو نصیحت وتلقین:
اپنےنَفْس کویوں نصیحت کرو:اےنَفْس!ہمارےحصہ میں صرف وہی چیزآئے گی جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہمارے لئے لکھ دی ہے، وہ ہمارا مالک ومولیٰ ہےاور اُسی پر مؤمنوں کو توکل