Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
139 - 274
 لبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’اِذَا اَحَبَّ اللّٰہُ قَوْمًا اِبْتَلاَھُمْ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ جب کسی قوم سے محبت فرماتا ہے تو انہیں آزمائشوں میں مبتلا فردیتاہے۔‘‘(1)ایک اور مقام پریوں  ارشاد فرمایا: ’’اَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً اَلْاَنْبِیَاءُ ثُمَّ الشُّھَدَاءُ ثُمَّ الْاَمْثَلُ فَالْاَمْثَلُیعنی لوگوں میں سب سے کڑی آزمائش  انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَامکی ہوتی ہے پھر شہدا کی پھر درجہ بدرجہ دیگر لوگوں کی۔‘‘(2)
شاہراہِ اولیاءپر سفر:
	جب تم دیکھوکہاللہ عَزَّ وَجَلَّتم سے دنیا کو روک کر تمہیں مصیبتوں اور آزمائشوں میں مبتلا فرما رہا ہے تو سمجھ جاؤ کہ تم اس کے نزدیک عزت والے ہو، اس کے ہاں تمہارا بڑا مرتبہ ہے اور وہ تمہیں اپنے اولیاکے راستے پر چلا رہا ہے، بے شک وہ تم پرنظررحمت رکھتا ہے مگروہ ان چیزوں کا محتاج نہیں، کیا تم ربّ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنتے:
وَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ فَاِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا(پ۲۷،الطور:۴۸)
ترجمۂ کنزالایمان:اوراےمحبوب تم اپنےرب کےحکم پرٹھہرےرہوکہ بےشک تم ہماری نگہداشت میں ہو۔
”شاید“اور”اگر“ سے بچو:
	بلکہ تم اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اِس احسان کوپہچانو کہ وہ تمہاری صلاح  وخیرکے لئے تمہاری حفاظت فرماتا،تمہارا اجروثواب بڑھاتا اور اپنے ہاں تمہیں معززونیک لوگوں والا مقام ومرتبہ عطا فرماتا ہے۔پس تم کتنے ہی قابل تعریف انجام  اورقابل عزت عطائیں دیکھتے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسند امام احمد،حدیث محمود بن لبید،۹/ ۱۶۳، حدیث:۲۳۷۰۲
2…ترمذی،کتاب الزھد،باب ماجاء فی الصبر علی البلاء،۴/ ۱۷۹،حدیث:۲۴۰۶،دون ذکر ”الشھداء“
مستدرک حاکم،کتاب معرفة الصحابة،باب محنة ابى ذر،۴/۴۱۱،حدیث:۵۵۱۴، دون ذکر ”الشھداء“