نیز وہ بخیل کیونکر ہوسکتا ہے جس نے تمہیں اپنی مَعْرِفَت جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی اور اس ایک نعمت کے سامنے ساری نعمتیں ہیچ ہیں۔
مومن بندے پر مہربانی:
حدیث شریف میں ہےکہاللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرماتاہے:’’اِنِّیْ لَاَذُوْدُ اَوْلِیَائِیْ عَنْ نَعِیْمِ الدُّنْیَا کَمَا یَذُوْدُ الرَّاعِی الشَّفِیْقُ اِبِلَہٗ عَنْ مَبَارِکِ الْعُرَّۃِیعنی میں اپنے دوستوں کو دنیا کی نعمتوں سے اس طرح دور رکھتا ہوں جس طرح مہربان چرواہا اپنے اُونٹوں کو خارش زدہ اُونٹوں سے دور رکھتا ہے۔‘‘(1)پس اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّتمہیں کسی مصیبت وسختی میں ڈالے تو اس بات کا یقین رکھو کہ وہ تمہارے امتحان وآزمائش سے بے پروا ہے، تمہارے حال سے باخبر ہے، تمہاری کمزوری کو دیکھ رہا ہے اور تم پر مہربان ورحم والا ہے، کیا تم حضور نبیّ مُکَرَّم، شفیْعِ مُعَظَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکایہ فرمان مبارک نہیں سنتے:اَللہُ اَرْحَمُ بِعَبْدِہِ الْمُؤْمِنِ مِنَ الْوَالِدَۃِ الشَّفِیْقَۃِ بِوَلَدِھَایعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّماں کےبچےپرشفقت کرنےسےزیادہ اپنےمومن بندے پر مہربان ہے۔‘‘(2)
منتخب بندوں کی آزمائش:
جب تمہیں اس بات کا علم ہو گیا تو یہ بھی جان لوکہ تمہیں کوئی بھی مصیبت یا پریشانی پہنچتی ہے تو وہ تمہاری بھلائی کے لئے ہوتی ہے ،تم اسے نہیں جانتے مگراللہ عَزَّ وَجَلَّخوب جانتا ہے۔اسی وجہ سے تم اولیائے کرام اورچُنے ہوئے بندوں کو بہت زیادہ آزمائش میں مبتلا دیکھتے ہوجو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے برگزیدہ بندے ہیں حتّٰی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکےحبیب ،حبیب
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…حلية الاولياء،مقدمة المصنف ،۱/۴۲،حدیث:۲۱۔الزھد لاحمد،ص۹۹،حدیث:۳۴۲،۳۴۱
2…بخاری،کتاب الادب،باب رحمة الوالد وتقبيله ومعانقته،۴/ ۱۰۰، حدیث:۵۹۹۹