Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
137 - 274
مریض کے ساتھ خیر خواہی :
	نیز اُس خیر خواہ، مُخْلِص اور ماہر طبیب کے متعلق تم کیا کہتے  ہو جو ایک مریض کو پانی پینے سے روک دیتا ہے حالانکہ شدتِ پیاس سے اس کا کلیجہ جل رہا ہوتا ہے لیکن وہ طبیب اسے کڑوی دَوَا دیتا ہے جو اس مریض کی طبیعت اور نَفْس پربھاری ہوتی ہے تو کیا تم یہ خیال کرسکتے ہو کہ وہ طبیب مریض سے دشمنی و عَدَاوَت اور اسے اذیت دینے کے لئے ایسی دَوَا دے رہاہے؟ ہرگز نہیں بلکہ اس میں مریض کے ساتھ سرا سر خیر خواہی اور احسان ہے کیونکہ طبیب جانتا ہے کہ مریض خواہش کےتقاضےکے سبب جو کچھ طلب کرتا ہے اس میں اس کی ہلاکت اور موت ہے اور اسے اس سے روکنے اور باز رکھنے میں ہی اس کی شفا اور بَقا ہے۔
خواہش پوری نہ ہونے کی وجہ:
	اے بندے! غورکرو کہ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کسی وقت ایک روٹی یا ایک دِرہم تمہیں عطا نہیں کرتا تو تمہیں یقین رکھنا چاہیے کہ جو کچھ تم چاہتے ہو اللہ عَزَّ وَجَلَّوہ چیز تمہیں دینے پر قادر ہےکیونکہ وہ فَضْل و جُوْد کا مالک ہے، تمہارے حال سے باخبر ہے، اس سے کوئی شے مخفی اور پوشیدہ نہیں،نہ اس کے پاس کوئی کمی ہے، نہ اس کے لئے کوئی رُکاوٹ اور نہ ہی وہ بخیل ہے۔وہ عیبوں سے پاک ہے،وہ سب سے بڑا غنی، سب سے زیادہ قدرت والا،سب سے بڑا عالِم اور سب سے بڑھ کر جَوَادو کریم ہے لہٰذا تمہیں یقین ہونا چاہیے کہ بسا اوقات تمہاری خواہش کی چیزیں وہ تمہیں اس لئے عطا نہیں کرتا کہ اس میں تمہاری اِصلاح اور بہتری پوشیدہ ہوتی ہے، عطا نہ کرنے کی وجہ عجز یا بخل نہیں بلکہ وہ تو قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
خَلَقَ لَکُمۡ مَّا فِی الۡاَرْضِ جَمِیۡعًا ٭(پ۱،البقرة:۲۹)
ترجمۂ کنز الایمان:تمہارے لیے بنایا جو کچھ زمین میں ہے۔