تو تب بھی تقدیر جاری ہے مگر تمہیں گناہ ملے گا۔‘‘
صحیح تدبیراور سیدھا راستہ:
مختصر یہ کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ پر تَوَکُّل و بھروسا کرکے دل کو چاہت والی چیزوں سے الگ کرنا،نفس کو پکی عادتوں سے دور کرنا، اُمورمیں تدبیر کو ترک کر کے ان میں موجود راز کو جانےبغیرانہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےسپردکرنا،نفس کوناراضی وبےصبری سےروکنا جبکہ نفس ان کی جلدی کرتاہےاورناپسندیدگی کےباوجودنَفْس کو رِضا کی لگام دینا اور صبر کے کڑوے گھونٹ پلانایہ سب اگرچہ ایک تلخ معاملہ،سخت علاج اور بھاری بوجھ ہےلیکن یہی صحیح تدبیر اور سیدھا راستہ ہے اوراس کا انجام اچھا اوراحوال نیک بختی پر مشتمل ہیں۔
مہربان باپ کی مریض بیٹے پر سختی:
تم اُس مہربان اور مالدار باپ کے متعلق کیا کہتے ہو جو اپنے بیمار بیٹے کو کھجور اور سیب وغیرہ پھل کھانے کو نہیں دیتا بلکہ اسے سخت طبیعت نگران کے سپرد کر دیتا ہے جو سارا دن اسے روکے رکھتا ہے اور ڈانٹتا رہتا ہے اور اس کا باپ اسےپچھنے لگوانے کے لئےپچھنےلگا نے والے کے پاس لے جاتا ہےجواسے کٹ وغیرہ لگا کر مزید درد وتکلیف سے دوچار کرتا ہے۔کیا تم یہ خیال کرسکتے ہو کہ وہ باپ اسے بخل و کنجوسی کی بنا پر کھانے کو پھل نہیں دیتایا اس سے اُس کا ارادہ بیٹے کو ایذا وتکلیف پہنچاناہےحالانکہ اس کا سب مال ودولت بیٹے ہی کا ہےاور وہ اس کے دل کا ٹکڑا اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے حتّٰی کہ اگر بیٹے کوذرا ہوا لگ جائے تو باپ بے چین ہوجاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا سُلوک صرف اس لئے کہ باپ جانتا ہے کہ اسی میں اس کی بہتری ہے اور اس تھوڑی مَشَقَّت و تکلیف سے اس کا بیٹابہت زیادہ بھلائی اور بڑے نفع کو پالے گا ۔