Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
135 - 274
پھر آخرت میں گناہوں کے بوجھ اور عذاب سے محفوظ رہتا ہے۔ لیکن اگر انسان کمزورہو اور صبر کو چھوڑ کر رونے دھونے کا راستہ اپنائے توتمام نفع ضائع ہو جاتااورسارا نقصان گلے پڑ جاتا ہے مثال کے طور پر بندہ عبادت کی مَشَقَّت پر صبر نہیں کرے گا تو عبادت ہی نہیں کر پائے گا یا پھراس کی حفاظت پر صبر نہیں کرے گا تو اسے ضائع کر بیٹھے گا یا پھراس کی استقامت پر صبرنہیں کرے گا تو استقامت  کے کسی اعلیٰ مرتبے سے محروم رہے گا۔ یونہی گناہ سے صبرنہ کرکے اُس میں مبتلا ہوجائے گا یازائد ازضرورت دنیا سے صبر نہ کرنے کی صورت میں اُس میں مشغول ہوگایا پھر مصیبت پر بے صبری کرکے صبر کے ثواب سے محروم ہو جائے گا۔
بے صبری پر دو مصیبتیں:
	 بسا اوقات بے صبری  اتنی بڑھتی ہے کہ اس کے سبب بندہ عوض سے محروم ہوجاتا ہے،یوں اسےدومصیبتیں پہنچتی ہیں :(۱)…دنیامیں اُس شے سے اور آخرت میں اجروثواب سےمحرومی اور(۲)…ناپسندیدہ بات میں گرفتاری اورصبرسےمحرومی۔منقول ہےکہ”حِرْمَانُ الصَّبْرِ عَلَی الْمُصِیْبَۃِ اَشَدُّ مِنَ الْمُصِیْبَۃِ یعنی مصیبت پرصبرسےمحروم ہوجانامصیبت سے زیادہ سخت ہے۔“ ایسی چیز کو اختیار کرنے کا کیا فائدہ جو پاس موجود شے کو دور کر دے اور مفقود ثواب سے بھی محروم کر دے، لہٰذا جب تم سے ایک شےفوت ہو جائے تو کوشش کرو کہ دوسری فوت نہ ہو۔
	امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکادرج ذیل فرمان بیان کردہ باتوں کا جامع ہے۔ چنانچہ آپ نے ایک شخص کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا’’اِنْ صَبَرْتَ جَرَتْ عَلَیْکَ الْمَقَادِیْرُ وَ اَنْتَ مَاْجُوْرٌ وَ اِنْ جَزِعْتَ جَرَتْ عَلَیْکَ الْمَقَادِیْرُ وَ اَنْتَ مَاْزُوْرٌیعنی اگر تم صبرکروگے تو تم پرتقدیر تو جاری ہوگی مگر اجروثواب پاؤ گے اور اگر بے صبری کا مظاہرہ کیا