Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
134 - 274
 کوئی اعتبار نہیں اورتوفیق دینے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّہی ہے۔
صبر کا بیان
سال بھر کا سکون:
	مختصر یہ ہے کہ صبر کڑوی دوا  اور ناخوشگوار مشروب ہے مگر بہت مبارک ہے کیونکہ یہ نفع کو تمہاری طرف کھینچتا اور نقصان کو تم سے دور کرتا ہے اور جب دوا میں ایسی خوبی ہو تو عقلمند اس کے گھونٹ بھر لیتا ہے اور اس کی کڑواہٹ پر صبر کرتے ہوئے کہتا ہے: مَرَارَۃُ سَاعَۃٍ رَاحَۃُ سَنَۃٍ یعنی ایک لمحے کی کڑواہٹ سال بھر کاسکون ہے۔
صبر کی چار اقسام:
	صبرکی چارقسمیں ہیں:(۱)عبادت پرصبر(۲)گناہوں سےصبر(۳)زائد ازضرورت دنیا سے صبر اور (۴)مصیبتوں اور تکلیفوں پر صبر۔
	 جب کوئی شخص صبرکی تلخی برداشت کرےاوران چاروں قسم کےصبرپرکاربندہو جائے تو اسے عبادات اورپھران پراستقامت کی عظیم نعمت  حاصل ہوتی ہے،آخرت میں ثوابِ عظیم کا مستحق بنتا ہے اور وہ دنیا میں گناہوں کے دلدل اور آخرت میں ان کے وبال میں مبتلا ہونے سے بچ جاتا ہے نیز وہ دنیا کی ایسی طلب سے بچ جاتا ہے جو فی الحال اسے مصروف کر دے اور آخرت میں بوجھ بن جائے پھر دنیا میں پیش آئی مصیبت اور چیز کے ضیاع پر اُس کے صبرکا اجر شمار نہیں کیا جاسکتا ۔ یوں اسے صبر کی بدولت عبادت ،اس کی اعلیٰ منازل اور ثواب حاصل ہوتا ہے اور اس کی تفصیل اللہ عَزَّ وَجَلَّہی جانتا ہے۔
صبرکا دُہرا فائدہ:
	صبر کے سبب پہلے تو انسان دنیا میں رونے دھونے وغیرہ کے بوجھ سے بچ جاتا ہے اور