واجب ہے مگر اس کے شَر ہونے کی حیثیت سےنہیں بلکہ اُس پر رضا مندی صرف اس لئے ہوکہ وہ قضائے الٰہی ہے ۔
اسے یوں سمجھئے کہ ایک بُرے مذہب سے تم اس طور پر راضی ہو کہ تمہیں اس کا علم وپہچان ہو جائے نہ یہ کہ وہ تمہارا مذہب بن جائے، یوں اس کا معلوم ہونا علم سے نسبت رکھے گا اور رضامندی اور محبت اس کا علم ہونے کے ساتھ ہو گی نہ کہ مذہب کے ساتھ، یہی معاملہ قضائے شَر پر راضی ہونے کا ہے۔
کمالِ رضا کی نشانی:
اگر کوئی نعمت میں اضافے کا طلبگار ہے تو اس سے اس کی رضا میں کوئی خرابی نہیں آتی بشرطیکہ وہ اضافے سے خیر وبھلائی کی نیت رکھتا ہو بلکہ ایسا کرنا تو کمالِ رضا کی نشانی ہے کیونکہ جو شخص جس چیز سے خوش اور راضی ہوتا ہے اس میں اضافے کا طلبگار ہوتا ہے۔ ہمارے پیارے آقا،مدینے والے مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو جب دودھ پیش کیا جاتا تو آپ یہ دعا کرتے:”اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُیعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! اس میں ہمارے لئے برکت رکھ اور ہمیں اس سے زیادہ عطا فرما۔“ (1)اگر کوئی اور چیز پیش کی جاتی تو یہ دعا کرتے:”وَزِدْنَا خَیْرًا مِّنْہُیعنی ہمارے لئے اس سے بہتر میں اضافہ فرما۔“(2)
ان دونوں مقاموں میں کہیں بھی ظاہر نہیں ہوتا کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلّکی مقدرشدہ چیزپرراضی نہیں تھے۔جہاں تک بات ہےاضافے میں
”بہتری وبھلائی کی نیت“ کے شرط ہونے کی تو یہ قلبی معاملہ ہے زبان سے کہنے نہ کہنے کا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…ابو داود،کتاب الاشربة،باب ما یقول اذا شرب اللبن،۳/۴۷۵،حدیث:۳۷۳۰
2…ابو داود،کتاب الاشربة،باب ما یقول اذا شرب اللبن،۳/۴۷۵،حدیث:۳۷۳۰ بتغیر