شرارتوں اور بُرے اعمال سے محفوظ فرمائے، ہمارے گناہ اور ہماری کوتاہیاں معاف فرمائے اور ہم پر اپنی نظَرِرحمت فرمائے بے شک وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والاہے۔
تقدیر پرناراضی کیا ہے؟
ناراضی وغصے کو چھوڑ دینا ہی رضا کی حقیقت ہے اور ناراضی یہ ہے کہ” جس معاملے کے اچھا یا بُرا ہونے کا یقین نہ ہو اس میں قضائے الٰہی کے برعکس معاملے کو اپنے لیےزیادہ اچھااورزیادہ بہترکہاجائے۔“اوریہ جاننابھی ضروری ہےکہ خیروشراورتمام اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قضا وقدر سے ہوتے ہیں، بندے کے لئے قضا پر راضی رہنا ضروری ہے اور شَر کا جوفیصلہ ہو چکا وہ بُرا نہیں ہے بلکہ شَروبُرائی تو وہ چیز ہے جس کے شر ہونے کا فیصلہ ہوا لہٰذا اب یہ نہیں کہہ سکتے کہ قضائے شَر پر راضی ہونا شَر پر راضی ہونا ہے۔
اچھی بُری تقدیر پر رضامندی:
حاصل یہ ہے کہ نعمت کے معاملے میں فیصلہ فرمانے والے (اللہتعالیٰ)، فیصلہ اورجس کافیصلہ ہوا یعنی نعمت سب پر راضی ہونا واجب ہے اور اس کے نعمت ہونے کے لحاظ سے اس کا شکر ادا کرنا بھی واجب اور اس طرح نعمت کا اظہار کرنا بھی واجب ہے جس سے نعمت کےاثرکااظہارہو۔مصیبت وتکلیف میں بھی فیصلہ فرمانےوالے،فیصلہ اوراُس مصیبت سے راضی ہونا ضروری ہے اورمصیبت و سختی ہونے کے اعتبار سے اس پر صبر کرنا بھی واجب ہے۔یوں ہی خیروبھلائی کے معاملے میں فیصلہ فرمانے والے، فیصلہ اوراُس بھلائی پر راضی ہونالازم وضروری ہے اوراس کے خیرہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے احسان کو یاد رکھنا بھی واجب ہے اور یہ کہ اس نے اس خیروبھلائی کی توفیق عطا فرمائی۔اسی طرح شَروبُرائی میں بھی فیصلہ فرمانے والے ، فیصلہ اور اُس شر پر جس کا فیصلہ ہوا ، ان سب پر راضی ہونا