Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
131 - 274
 اورآنے والے کے لیے سوچ بچار کرنا تمہاری موجودہ برکت کوبھی ختم کر دے گا۔‘‘اس کی وجہ یہ ہےکہ جب تم قضاپر ناگواری کااظہارکروگےتواللہ عَزَّ وَجَلَّتم سےناراض ہوکر تمہاری پکڑ فرمائے گا۔
	منقول ہے کہ ایک نبی عَلَیْہِ السَّلَامکو آزمائش پہنچی تو انہوں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں شکایت کی، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ’’تم میرا شکوہ کر رہے ہو حالانکہ میں شکوہ اور مذمت کا مستحق نہیں ہوں اور تم نے ایسی بات کا اظہار کیا اور میری قضا پر ناراض ہوتے ہو؟ کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہاری  خاطر دنیا بدل دوں یاپھر لوحِ محفوظ میں تبدیلی کر دوں، میں اپنی چاہت کے بجائے تمہاری چاہت کے مطابق فیصلہ کروں اور میری پسند کے بجائے تمہاری پسند نافذ ہو، میری عزت وجلال کی قسم! اگر دوبارہ تمہارے دل میں یہ خیال گزرا تو میں لباسِ نبوت اُتار کرتمہیں آگ کے حوالے کر دوں گا اور مجھے کوئی پروا نہیں۔‘‘
	عقلمند کو دل کے کانوں سے سننا چاہیے کہ کس طرح ربّ تعالیٰ اپنے انبیا اور برگزیدہ بندوں کو سخت تنبیہ فرما رہا ہے تو عام بندوں کے ساتھ اس کا معاملہ کیسا ہو گا؟ پھرحکایت میں اس فرمان پر غور کرو کہ’’اگر دوبارہ آپ کے دل میں یہ خیال گزرا تو میں لباسِ نبوت اتارلوں گا۔‘‘یہ سخت تنبیہ محض دل کے ارادے وخیال پر ہے تواس شخص کا کیا حال ہو گا جو بے صبری کرے،چیخے چلائے، شکوہ کرے اور سب لوگوں کے سامنے اپنے ربّ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی آزمائش پر شور مچائے،نہ صرف اکیلا بلکہ اوروں کو بھی اپنے ساتھ ملا لے۔ پھر یہ تنبیہ انہیں تھی جن کے دل میں ایک بارناراضی کا خیال گزرا  تو جس نے ساری عمر ہی اپنے ربّ سے ناراضی میں گزار دی اس کا کیا حال ہو گا۔ انہوں نے  تواپنے ربّ تعالیٰ سے شکایت کی تھی پھرجوغیرکےسامنےرونا روئےاس کاکیابنےگا؟اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں نفس کی