گویا اللہ عَزَّ وَجَلَّیہ فرما رہا ہےکہ ایسا بندہ ہمارے ربّ ہونے پر راضی نہیں ہے کیونکہ تقدیر پرناراض ہوتا ہے تو اسے چاہیے کوئی دوسرا ربّ بنا لے جس سے وہ راضی ہو۔غافل شخص کے لئے یہ انتہائی وعید اور سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے۔
عُبُوْدِیَّت اور رَبُوْبِیَّت :
کسی بزرگ سےجب پوچھاگیاکہ عُبُوْدِیَّت(بندگی)اوررَبُوْبِیَّت (پروردگاری)کیا ہے؟ تو انہوں نے بہت پیاراجواب دیا کہ’’ربّ فیصلہ کرے اور بندہ اُس پر راضی رہے اور اگر رب فیصلہ کرے اور بندہ اُس پر راضی نہ ہو تو وہاں نہ ربوبیت ہے نہ عبودیت( یعنی اس نے رب کی ربوبیت کواوراپنی عبودیت کونہیں سمجھا)‘‘اب تم اس اصل کودیکھواوراپنےاوپرغور وفکر کرو امید ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی مدد وتوفیق سے سلامتی نصیب ہو جائے گی۔
تیسرا عارضہ:تقدیرکافیصلہ
عبادت سے رُکاوٹ بننے والا تیسرا عارضہ تقدیر کا فیصلہ اور اس کا مختلف صورتوں میں واقع ہونا ہے، تقدیر کے فیصلے پر راضی رہنا تمہارے لئے ضروری ہے تاکہ تمہیں عبادت کے لئے فراغت ملے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی سے محفوظ رہو کیونکہ اگر تم اس کی قضا وفیصلے پر راضی نہ ہوئے تو تمہارا دل غم وپریشانیوں میں گھر جائے گا کہ یہ کام ایساکیوں ہوا؟ فلاں کام ایسے کیوں نہیں ہوا؟ اور جب دل اس طرح کی پریشانیوں میں پھنسا ہو تو پھر عبادت کے لیے کیسے فارغ ہو سکتا ہے کیونکہ تمہارے پاس صرف ایک ہی دل ہے اور اِ سے بھی تم نے دنیا کے اگلے پچھلےغموں سے بھر دیا تو اب اس میں یادِ الٰہی اور فکرِ آخرت کے لئے جگہ کہاں بچے گی؟
موجودہ برکت:
حضرت سیِّدُناشقیق بلخیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِینےکیاخوب فرمایاکہ’’گزرےہوئےپر حسرت