Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
129 - 274
	ترجمہ:اے نفس! جو مقدر ہو چکا اس پرصبر کر اورجو مقدر نہیں ہوا اس سے تو محفوظ ہے اور یقین کر لے کہ تقدیر کا لکھا ہو کر رہے گا چاہے تو صبر کر یا نہ کر۔
 فیصلہ نہ ماننے والامومن نہیں:
	عقلمند شخص جنت اور قلبی سکون کے بدلے میں ایسابے کار غم نہیں اُٹھاتا جس میں آخرت کا بوجھ اور عذاب بھی ہو۔ جبکہ تقدیر پر راضی نہ ہونے کی صورت میں کفر ونفاق کا اندیشہ بھی موجود ہے۔ ہاں اگر اللہ        عَزَّ    وَجَلَّ بچا لے تو اور بات ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: 
فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَیُسَلِّمُوۡا تَسْلِیۡمًا ﴿۶۵﴾(پ۵،النسآء:۶۵)
ترجمۂ کنزالایمان:تواےمحبوب تمہارےرب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گےجب تک اپنےآپس کے جھگڑےمیں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرمادواپنےدلوں میں اس سےرکاوٹ نہ پائیں اور جی سےمان لیں۔
	اس آیت مبارکہ میں قسم ارشاد فرما کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے محبوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فیصلے پر راضی نہ ہونے والوں کے ایمان کی نفی کر دی  تو جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فیصلے پر راضی نہ ہو اس کا کیا حال ہو گا؟
	حدیث قُدسی ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنےارشاد فرمایا:مَنْ لَمْ یَرْضَ بِقَضَائِیْ وَ لَمْ یَصْبِرْ عَلٰی بَلَائِیْ وَ لَمْ یَشْکُرْ عَلٰی نَعْمَائِیْ فَلْیَتَّخِذْ اِلٰھًا سِوَائِیْیعنی جو شخص میری تقدیر پر راضی نہ ہو، میری جانب سے آنے والی مصیبتوں پر صبر نہ کرے اور میری نعمتوں کا شکر ادا نہ کرے وہ میرےعلاوہ کوئی اور خدا بنا لے۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…معجم کبیر، ۲۲/ ۳۲۰،حدیث:۸۰۷۔تفسیر القرطبی،سورة البروج،تحت الآية:۲۲، ۱۹/ ۲۱۰