ہی بہترجانتاہےلہٰذاتم معاملات اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےسپردکردوگےتووہی تمہاری بھلائی کاوالی ہوگا۔
تفویض کے دو فائدے:
خلاصہ یہ ہے کہ تفویض میں دوفائدے ہیں: ایک حال میں اور ایک مستقبل میں، حال کا فائدہ تو یہ ہے کہ دل کی فراغت اور بے کار فکروں سے نجات حاصل ہوتی ہے۔اسی وجہ سے ایک تارکِ دنیا بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: جب تقدیر حق ہے تو پھر غم بے کار ہے۔اس قول کی اصل یہ حدیثِ مبارکہ ہے کہ پیارے آقا،مدینے والے مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُناابنِ مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے فرمایا: ”تمہاری فکر کم ہونی چاہیے کیونکہ جو مقدر ہو چکا وہ ہو کر رہے گا اور جو مقدر میں نہیں وہ تمہیں پہنچ نہیں سکتا۔“(1)آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکایہ فرمان انتہائی فصیح وبلیغ ہےجوکم الفاظ میں بہت سےمعنیٰ لئےہوئے ہے۔تفویض میں مستقبل کا فائدہ یہ ہے کہ بارگاہِ الٰہی سے ثواب اور اس کی رضا ملتی ہے حتّٰی کہ ایسوں کے بارے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:
رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوۡا عَنْہُ ؕ(پ۳۰،البینة:۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہان سے راضی اور وہ اس سے راضی۔
اس کے برعکس قضائے الٰہی پر ناراضی کا اظہار دنیا میں فکرو غم اور آخرت میں بوجھ اور عذاب کا باعث ہے کیونکہ قضا تولامحالہ نافذ ہو کر رہے گی تمہارا غم اور ناراضی اسے پھیر نہیں سکتے جیسا کہ منقول ہے:
مَا قَدْ قَضٰی یَا نَفْسُ فَاصْطَبِرِیْ لَہٗ وَلَکَ الْاَمَانُ مِنَ الَّذِیْ لَمْ یُقَدَّرِ
تَیَقَّنِیْ اَنَّ الْمُقَدَّرَ کَائِنٌ حَتَمًا عَلَیْکَ صَبَرْتِ اَمْ لَمْ تَصْبِرِیْ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…شعب الایمان،باب التوکل والتسلیم،۲/۷۰،حدیث:۱۱۸۸