Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
127 - 274
(2)…
اِنَّا نَطْمَعُ اَنۡ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ(پ۱۹،الشعرآء:۵۱)
ترجمۂ کنزالایمان:ہمیں طمع ہےکہ ہمارا رب ہماری خطائیں بخش دے۔
	اس کے برعکس قابلِ مذمت طمع یہ ہے کہ مشکوک نفع اور خطرے والی شے پر دل مطمئن ہوجائے۔حضورنبیّ اَکرم،رسولِ مُحْتَشَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: اِیَّاکُمْ وَ الطَّمَعَ فَاِنَّہٗ فَقْرٌ حَاضِرٌ اپنے آپ کو طمع سے بچاؤ کیونکہ یہ  فوری محتاجی ہے۔(1)
	منقول ہے کہ ’’ھَلاَکُ الدِّیْنِ الطَّمَعُ وَ مَلَاکُہُ الْوَرَعُ یعنی طمع دین کو ہلاک کرتی اوروَرع وپرہیزگاری  اِس کی حفاظت کرتی ہے۔‘‘
تفویض پر اُبھارنے والی باتیں:
	تمہیں یہ باتیں تفویض پر اُبھاریں گی: اُمور میں خطرات کو یاد کرنا، ہلاکت وخرابی کا امکان،مختلف خطرات سے محفوظ ہونے میں عاجز ہونا اور اپنی کمزوری، غفلت اور نادانی کی وجہ سےان خطرات کونہ روک سکنا،یہ وہ باتیں ہیں جن کا یادرکھناتمہیں تمام اُمُورکواللہ عَزَّ وَجَلَّ کےسپردکرنےپراُبھارےگانیزاس بات پربھی اُبھارےگاکہ ان خطرات سے بچنا اوران کوروکنا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی طرف سے ہےاور امور کا ارادہ بہتری و بھلائی کی شرط کے ساتھ جُڑا ہوا ہے۔
	جن  خطرات سے تم عاجز ہو ان میں ایک شک کا خطرہ ہے کہ یہ کام ہو گا یا نہیں ہو گا، میں اس کام تک پہنچ بھی سکوں گا یا نہیں؟ یوں ہی فساد وخرابی کا خطرہ ہے کیونکہ تمہیں یقین نہیں ہےکہ اس میں میری بہتری ہےیانہیں۔بندوں کی بہتری کس میں ہے؟یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…معجم اوسط،۵/۴۰۳،حدیث:۷۷۵۳