Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
126 - 274
	دوسری وہ جس کےبارےمیں تمہیں یقینی طورپرمعلوم ہےکہ یہ صلاح وخیرہے جیسے: جنت،ایمان،سنت اوران جیسی دیگرچیزیں۔ان میں تمہاراارادہ ضروری ہےمگران میں تفویض نہیں ہے  کیونکہ ان میں کوئی خطرہ ہے نہ ان کے صلاح وخیرہونے میں کوئی شک۔
	تیسری وہ ہے جس کے بارے میں تم حتمی طور پر نہیں جانتے کہ اس میں میرے لئے بہتری ہے یا خرابی جیسے: نفل اور مباح کام۔یہی تفویض کا مقام ہے، اس میں تمہیں قطعی ارادہ نہیں کرنا بلکہ اس میں بھلائی اور بہتری کی شرط لگانا ضروری ہے، اگر تم نے یہ شرط لگائی تو یہ تفویض ہو گی اور اگر بغیر شرط کے ہی ارادہ کیا تو یہ مذموم لالچ ہو گا جس کی ممانعت ہے ۔اس وضاحت سے معلوم ہوا کہ تفویض ہر اس ارادے میں ہو گی جس میں خطرہ ہو اور اس کے بہتر ہونے کا یقینی علم نہ ہو۔
تفویض کا معنیٰ:
	تفویض کی حقیقت یہ ہےکہ”جس معاملےمیں تمہیں خطرہ ہواس میں یہ اِرادہ کرلو کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہاری بہتری کی حفاظت فرمائے ۔“اورتفویض کی ضد طمع (لالچ) ہےلیکن اگر یہ طمع کسی ایسی چیز میں ہو جس میں خطرہ نہ ہو یا پھر جس میں تم نے”اِنْ شَآءَ اللہ“ کہا ہو تو یہ مذموم نہیں بلکہ قابلِ تعریف ہے اور اس وقت اسے آس وامید کہتے ہیں۔ جیسا کہ ان فرامیْنِ باری تعالیٰ میں ہے:
(1)…
وَالَّذِیۡۤ اَطْمَعُ اَنۡ یَّغْفِرَ لِیۡ خَطِیۡٓـئَتِیۡ یَوْمَ الدِّیۡنِ ﴿ؕ۸۲﴾(پ۱۹،الشعرآء:۸۲)
ترجمۂ کنزالایمان:اوروہ جس کی مجھےآس لگی ہے کہ میری خطائیں قیامت کے دن بخشے گا۔