Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
125 - 274
بہت باقی ہے لہٰذا جو دل چاہے کرتا پھروں اورآخری وقت میں توبہ کر لوں گا۔“ چنانچہ وہ عبادت چھوڑ کر فسق وفجور میں پڑ گیا اور اسی حالت میں اسے موت آگئی۔ اَلْعِیَاذُ بِاللہ
	تمہارے لئے اس حکایت میں سبق ہے کہ تم اپنے ارادے پر سختی سے عمل پیرا نہ ہو اور نہ اپنے نفسانی مطلوب پر اصرار کرو ۔نیز یہ حکایت تمہیں لمبی امید سے بھی ڈرا رہی ہے،بے شک لمبی امید بڑی آفت ہے۔ اس کے برخلاف جب تم اپنا معاملہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےسپرد کر کے اس سے دعا کرو گےکہ” وہ تمہارے لئے بہتری کا انتخاب فرمائے۔“ تو ضرورتمہیں خیر اور سلامتی نصیب ہو گی اور تم بہتر کی طرف ہی جاؤ گے۔
	اللہ    عَزَّ وَجَلَّ   اپنے ایک نیک بندے کا قول یوں بیان فرماتا ہے: 
وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیۡۤ اِلَی اللہِ ؕ اِنَّ اللہَ بَصِیۡرٌۢ بِالْعِبَادِ ﴿۴۴﴾فَوَقٰىہُ اللہُ سَیِّاٰتِ مَا مَکَرُوۡا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوۡٓءُ الْعَذَابِ ﴿ۚ۴۵﴾(پ۲۴،المؤمن: ۴۵،۴۴)
ترجمۂ کنزالایمان:اورمیں اپنےکاماللہکو سونپتا ہوں بے شک اللہبندوں کو دیکھتا ہے تو اللہنے اُسے بچا لیا ان کے مکر کی برائیوں سےاورفرعون والوں کو برے عذاب نے آ گھیرا۔
 	دیکھاتم نےکہ اپنےکاماللہ عَزَّ وَجَلَّکےسپردکرنےکاکیاہی اچھاانجام ہواکہاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں برائیوں سے بچایا،دشمن کے خلاف ان کی مدد فرمائی اور ان کی مراد کو کامیاب کیا ،غور کرو تمہیں توفیق ملے۔
بااعتبار تفویض اشیاء کی تین اقسام
	اشیاء کی تین اقسام ہیں :پہلی وہ جس کے بارے میں تمہیں یقینی علم ہے کہ یہ فساد وشر ہے جیسے: دوزخ ، عذاب،بدعت، کفر اور گناہ۔ان میں تمہارے ارادے اور تفویض کی کوئی گنجائش  نہیں ۔