ڈالنے والے خیالات ہیں، اس معاملے میں تمہیں تفویض کفایت کرے گی یعنی تم پر لازم ہے کہ اپنے تمام کام اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سپرد کر دو۔ اس کی دو وجہیں ہیں:
پہلی وجہ :دل کو اسی وقت اطمینان اور چین نصیب ہوجائے گاکیونکہ اگر اہم اُمور کی اچھائی یا بُرائی تم پر واضِح نہ ہو تو ایسے اُمور کی فکر میں دل پریشان اور خیالات منتشر رہیں گےاورجب تم اپنےہرمعاملےکوخداعَزَّ وَجَلَّکےحوالے کر چکے ہو گے تو تمہیں یقین ہوجائے گا کہ اب خیر وبھلائی ہی نصیب ہوگی۔ یوں تمہیں فوری طور پر تشویش سے امن اور دل کا اطمینان حاصل ہو جائے گا اور فوری طور پر امن واطمینان اور راحت نصیب ہو جانا بہت بڑی نعمت ہے۔
حضرت سیِّدُناامامُ الحرمینرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاپنی مجالس میں اکثرفرمایاکرتےتھے: تدبیر اپنے پیدا کرنے والے کے سپرد کر دے پُرسکون ہو جائے گا۔
دوسری وجہ:ایسا کرنے سے تم مستقبل میں بھی خیر وبھلائی میں رہو گے کیونکہ امور کادارومداران کےانجام اوران میں پوشیدہ رازوں پرہوتاہےجب تم اپنے اختیار سےانہیں سرانجام دینے کاحتمی فیصلہ کر لو گے تو غیر شعوری طور پر بہت جلد ہلاکت میں پڑ جاؤ گے۔
ابلیس کی دھوکاسازی:
ایک عبادت گزاربندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا کیا کرتا تھا کہ اسے ابلیس دکھایا جائے۔ اس سے کہا گیا کہ”اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے عافیت کا سوال کر۔“ مگر وہ نہ مانا اور اپنی بات پر اَڑا رہا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ابلیس کو اس کے سامنے ظاہر کر دیا۔ جب عابد نے اسے دیکھا تو اسے مارنے کاارادہ کیا ،ابلیس نےکہا:”اگر تو نے100سال زندہ نہ رہنا ہوتا تو میں تجھے سخت سزا دیتا اور ہلاک کردیتا۔“عابداس کی بات سےدھوکاکھاگیااوردل میں کہنےلگا:”ابھی تومیری عُمْر