میں ہے چاہے مجھے دے اور چاہے نہ دے اوریہ معاملہ مجھ سے پوشیدہ اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سپردہے وہ جیسے چاہتا ہے تدبیر کرتا ہے اورمیں اسی وجہ سے پُرسکون ہوں ۔‘‘اہْلِ تحقیق کے لئے یہ نکتہ بہت مفید ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ مددفرمانے والا ہے۔
وہ جسے چاہے غذا کردے:
چوتھا نکتہ:تم جانتے ہو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے جس رزق کی ضمانت لی ہے وہ اتنی ہی مقدار ہے جوبدن کو قائم رکھے اور ضروری ہو،باقی رہے اسباب جیسے کھانا پانی تو جب بندہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کےلئےتنہائی اختیارکرتاہےاوراس پرتوکل کرتاہےتوبسااوقات اس سے اسباب روک لئے جاتے ہیں، ایسے میں اسے تنگ دل وپریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ حقیقت میں اتنےہی رزق کی ضمانت لی گئی ہےجوبدن کوقائم رکھےاوراللہ عَزَّ وَجَلَّپرتوکل بھی اسی معنیٰ کے لحاظ سےہےاورجب تک بندےکی زندگی ہےاوروہ عبادت کامکلّف ہےتب تکاللہ عَزَّ وَجَلَّاُسےاتنی قوت یقیناً عطا فرمائےگا جس سےوہ عبادت کاحق اداکرسکے۔اباللہ عَزَّ وَجَلَّکی مرضی ہے وہ کھانے پانی کے ذریعے بندے کو قائم وزندہ رکھےیامٹی،گارےسے یا پھرتسبیح وتہلیل کےذریعےجیسےملائکہ کی غذاتسبیح ہےاورچاہےتوان سب کےبغیرقائم رکھے۔لہٰذا بندےکامطلوب عبادت کےلئےقوت اورقیام ہوانہ کہ کھانا،پینااورشہوت ولذت کا حصول،پس اسباب کا کوئی اعتبار نہیں۔اسی معنیٰ سے قوت پا کر زاہدین وبزرگان دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنکئی لمبےسفراورکئی کئی راتیں اوردن بغیرکھائےپئےگزار لیتے تھے، کوئی10دن نہیں کھاتا تھا ،کوئی ایک مہینہ اور کوئی دو مہینے مگر ان کی طاقت برقرار رہتی اوربعض بزرگ ریت پھانک کر گزارہ کرلیا کرتے، پس اللہ تعالیٰ اسی کو ان کی غذا بنادیتا ہے۔چنانچہ